حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 70
بسر کرنی شروع کی بلکہ اس کا تعلق ایک گزرے ہوئے زمانے سے بھی ہے۔اس سے ایسی بانصیب ماں بھی پائی کہ جس کے قدموں تلے اسے جنت کی بجائے جہنم علی۔پس جنت کی خوشخبری سے یہ مراد نہیں کہ لازماً ہر ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔مراد یہ ہے کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ اے مسلمان عور تو اتمھارے پاؤں تلے سے جنت پھوٹا کرے اور جہاں تمھارے قدم ہیں دہ برکت کے قدم پڑیں اور تمہاری اولادیں اور تم سے تربیت پانے والے ایک جنت نشان معاشرے کی تعمیر کریں۔پس اس نقطہ نگاہ سے احمدی خواتین کو بہت کچھ سوچھے کی ضرورت ہے۔بہت کچھ فکر کی ضرورت ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت سے او منیتی اسلامی تعلیمات بعض عیوب سے تعلق رکھتی ہیں یعنی عورت کو بعض باتیں کرنے سے روکتی ہیں اور بعض ادائیں اختیار کرنے سے منع فرماتی ہیں اُن کا اس حدیث کے مضمون سے بلاشبہ ایک گہرا تعلق ہے۔وہ سب باتیں وہ ہیں جو جنت کو جہنم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔پس اسلام ان معنوں میں عورت کے لئے قید خانہ نہیں کہ مرد کو تو کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرتا پھرے عورت مظلوم گھروں کی چار دیواری میں مقید ہوگئی۔ان معنوں میں ایک مومنہ عورت کی زندگی ہرگز ایک قید خانہ میں بسر نہیں ہوتی۔ہاں ایک اور معنے میں وہ یقینا قید خانہ میں رہتی ہے اور ان معنوں میں تمام مسلمان مرد بھی تو قید خانہ میں ہی رہتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا :- الدنيا سجن المؤمن جنة الكافر اس کی ایک اور روایت یہ ہے کہ الدنيا سجن المؤمن و جنة للكافر تو وہاں مومن کے لفظ کے اندر تمام مرد مومن بھی اور مومن عورتیں بھی شامل فرما دیں۔پس وہ قید خانہ اور ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں لیکن ایسے کسی قید خانے کا ذکر اسلام میں کہیں نہیں ملتا کہ جس کے نتیجہ میں عورت تو اچھی باتوں سے محروم رہ جائے اور مقید ہو جائے لیکن مرد کو کھلی آزادی ہو کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے ہو بھی پابندیاں ہیں