حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 49
۴۹ نفرتیں پیدا کرتی ہیں اور اسی کا نام شریکہ ہےاور یہ خرابیاں اور بھی کئی قسم کی عادتوں کے نیت میں بڑھتی چلی جاتی ہیں، مثلاً دکھاوا ہے۔بسیار شادی کے موقعہ پر لوگوں نے ایک خواہ مخواہ کا ناک بنایا ہوا ہے اور ناک کے کٹنے کی بڑی فکر ہے۔ہماری ان خواتین کو یہ وہم ہوتا ہے کہ اگر بیاہ شادی کے موقعہ پر ریا کاری سے کام نہ لیگی تو لوگوں کے سامنے ہمارا ناک کٹ جائے گا بھٹی ا ناک تواس وقت کٹ گیا جب خدا کے سامنے کٹ گیا۔باقی ناک رہا کہاں ہے جس کو کاٹو گی ؟ جب خدا کی ہدایات سے روگردانی کی جب رسول کی ہدایات سے روگردانی کی ، جب اسلامی تعلیم کی طرف پیٹھ پھیر دی تومومن کا ناک تو وہیں کٹ جاتا ہے۔باقی رہ ہی کچھ نہیں پھر اس بات کی کیا فکر ہے کہ کیا رہتا ہے اور کیا نہیں رہتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ دکھا دے نے بھی ہمارے معاشرہ میں بہت ہی خوفناک اثرات مرتب کئے ہیں۔بہو کو طعن وتشنیع یہ باتیں ابتدا ہیں لیکن اس ابتدا کے بعد ان کے بد اثرات کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی باقائد کوشش کی جاتی ہے کبھی کسی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کسی سے کوئی کوتا ہی ہو گئی ، کوئی دکھاوا نہ ہوسکا، کھانے میں کہیں کمی آگئی یا یہاں تک کہ کھانے میں نمک ہی زیادہ پڑگی، کوئی معمولی سی بھی خرابی ہو تو یہاں شریکہ فوراً سر اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں جگہ یہ خرابی ہوئی تھی اور پھر وہ باتیں کبھی بھولتے ہی نہیں اور وہ بیچاری اکیلی بیٹی جو کسی نے کسی کے گھر میں رخصت کی ہے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میں دشمنوں کے گھر میں آگئی ہوں۔ہر موقعہ پر اس کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔کبھی اس نے کھانا پکایا اور خراب ہو گیا تو کہا ہاں ! ہمیں پتہ ہے کس ماں کی بیٹی ہو۔دہیں سے آئی تھی ناں جہاں تمہاری شادی کے وقت یہ واقعہ ہوا تھا۔مہمانوں نے اف توبہ توبہ کی کسی ے علم نہیں اٹھایا۔اٹھایا جاتاہی نہی تھا۔اس قسم کی مبلغہ آمیز باتیں اور پھر طی تشیع کے ذریعہ وہ اس بیچاری تجی کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں۔