حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 27

۲۷ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔یہی طریق ہے اس کے سوا اور کوئی طریق نہیں ہے۔باقی فرمی باتیں ہیں ، قھتے ہیں۔اپنی ذات میں خدا کو اتاریں اور یہ کام آپ کے بس میں نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ آپ محبت سے خود کو متصف کریں محبت ایک عجیب طاقت ہے۔اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ہے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے محبت کی تعریف میں ایسا کلام پیش فرمایا ہے جو مجھے دنیا کے لڑ پھر میں اور کہیں دکھائی نہیں دیا فرماتے ہیں۔۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو میاں کردی اسے محبت تو عجیب چیز ہے تو نے حیرت انگیز نشان ظاہر کئے ہیں۔زخم اور مرہم کو برابر کر دیا ہے۔یعنی خدا کی راہ میں اب مجھے زخم لگے تب بھی مرہم کا سائرور ہے اور جب مریم لگے تو اس پر بھی مرسم کا سا ضرور ہے۔دنیا میں انقلاب بر پا کرنے والی قوت محرکہ پس وہ محنت جو انسان کو دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لئے چاہیے وہ محنت ، محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ محبت کے بغیر جو کام کیا جاتا ہے وہ مصیبت کا درجہ رکھتا ہے۔ایک ماں کسی اور کے بچے کو سنبھالے تو کیسی مشکل پڑتی ہے۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا ہے نانیاں بھی جب بچہ گندا ہو تو ماں کے اوپر پھینک دیتی ہیں کہتی ہیں تیار کر کے لاؤ تو ٹھیک ہے اس سے بڑا پیار کریں گے۔لیکن ذرا گندہ ہوا بد یو آئی کہتی ہیں پکڑو اسے اٹھا کر لے جاؤ ہم تو اسے برداشت نہیں کر سکتے۔میری بیگم پاس بیٹھی ہوئی ہیں یہ کی اسی طرح کرتی ہیں۔بیٹیاں بیچاری جن کے بڑے پیارے پیارے بچے ہیں وہ ان کو تیار ہوتی ہیں وہ سچ کے خوبصورت لگتے ہیں تو نانیوں کی گود میں آجاتے ہیں اور نانوں کی گود میں