حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 155
۱۵۵ انہوں نے اس معامہ میں تعاون نہ کیا اور ان کی اولادیں ضائع ہوئیں تو خدا ان سے پوچھے گا اور وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوں گے۔یہ بھی سوچیں کہ آپ کی اپنی بچیاں بھی ہیں جو دوسروں کے گھروں میں جانے والی ہیں۔ایسے مردوں کو خیال کرنا چاہیے کہ جب غیروں کی پہنچیں اُن کے پاس آتی ہیں تو کس طرح بیچاری نہتی اور بے دست و پا ہو کر آتی ہیں۔ایک ظالم خاوند کے پہلے پڑ جائیں تو ماں باپ کو کتنی تکلیف پہنچتی ہوگی۔اگر کوئی خاوند اپنی بیوی سے اس طرح کا ظالمانہ سلوک کرتا ہو اور اُسے کوئی پرواہ نہ ہو اور کوئی خطرہ محسوس نہ کرے تو اس کو سوچنا چاہیے کہ آئندہ ہو سکتا ہے اس کی بھی بیٹیاں ہوں وہ بھی کسی کے گھر میں جائیں، وہ بھی اسی طرح لیے دست و پا ہوں۔اگر وہ اس نظر سے سوچے تو وہ تھر تھرا اٹھے گا وہ سوچے گا کہ یہ تو بہت ہی خطرناک بات ہے لیکن عام طور پر لوگ اس بات کو بھلا دیتے ہیں۔بیوی سے ظلم معاشرے کی تباہی کا باعث ہے یں بھتا ہوں کہ بیوی سے ظلم کا سلوک بہت بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ام گناہ کبیرہ جتنے بھی ہیں ان کا اکثر اثر انسان کی ذات پر پڑتا ہے لیکن یہ ایک ایسا گناہ ہے جو سارے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔جہاں خاوند کی بد خلقی کے نتیجے میں گھر کا ماحول بگڑتا ہے وہاں بجتیاں بے چاری دُکھوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ ان کو بیچتے لے کہ اس طرح گزارے کرنے پڑتے ہیں کہ ساری زندگی ایک عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔اس کا بد اثر ماحول پر پڑتا ہے۔لیکن اس علیحدگی سے پہلے کے حالات میں بھی اگر خا وند اور بیوی کے تعلقات اچھے نہ ہوں تو اولاد دو رخی بن کر اُٹھ رہی ہوتی ہے۔بہت سے بچوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ میں کدھر جاؤں۔ماں کی طرف جاؤں یا باپ کی طرف جاؤں اور وہ دونوں کے جھگڑے سُنتے ہیں۔دونوں کی ایک دور سے زیادتیاں ( دونوں کی اس لئے میں کہ رہا ہوں کہ اگر مرد کرتا ہے تو عورتیں بھی شروع کر دیتی ہیں جب وہ دیکھتے ہیں تو بالآخر