حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 149
۱۴۹ آپ آرام سے گھر میں آدھا دن تک سوتی رہیں اور اس کے بعد انھیں اور باقی وقت سنگھار پیار میں خرچ کریں اور پھر پوری طرح تیار ہو کر شاپنگ کے لئے نکل جائیں۔ان کاموں کے لئے وقت نہیں چاہئیے۔ان کاموں کے لئے وقت چاہیے کہ آپ تہجد کے وقت اٹھیں، اپنے بچوں کو پیار دیں۔ان کو اُٹھانے کی کوشش کریں ، اُن کے لئے دعائیں کریں۔نماز کے وقت اگر آپ کا خاوند سُست ہے تو اس کو اٹھائیں، بھائی سست ہے تو اس کو اُٹھائیں، سب بچوں کو جگائیں اور پھر ان کو تلاوت سکھائیں اور خود بھی اچھی آواز میں تلاوت کریں اور بچوں کو بھی تلاوت کر دیا کریں۔ان کاموں سے فارغ ہو کر پھر آپ ان کو تیار کرائیں گی۔پھر آپ کو ان کو سکول بھیجنا ہو گا یا دیگر گھر کے کام کرنے ہوں گے۔تو عورت بیچاری کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ ان فضول باتوں میں خرچ کرے۔ان ذمہ داریوں کے ساتھ آپ کو جو محنت کرنی پڑتی ہے اس کی جزا بھی اللہ تعالیٰ ساتھ ساتھ دیتا ہے۔کیونکہ میں جو نقشہ کھینچ رہا ہوں میں نے ایسی پرانے زمانے کی مائیں دیکھی ہیں کہ جیسی سکینت اُن کے دل میں دیکھی ہے دوسری عورتیں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔وہ مائیں تو تہجد کے وقت اُٹھتیں، دُعائیں کرتیں اور پھر اپنے بچوں کی تربیت کرتیں ان کو نماز کے لئے اٹھائیں اور ان کو نماز پڑھتے دکھتی ہیں ، ان کو ان نمازیوں سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک ملتی ہے کہ ان کی نیکیوں سے ان کا دل اس طرح سکون سے بھر جاتا ہے کہ وہ لڑکی جو سارا دن میں کی زندگی بسر کرنے کی تمنا میں اس کی تلاش کرتی پھرتی ہے، اگر باہر نہ ملے تو دن رات گانے سنتی رہتی ہے Pop music (پاپ میوزک میں دل لگانے کی کوشش کرتی ہے ، نئے نئے فیشن تلاش کرتی ہے ، اس کا تو اس کے ساتھ کوئی تعلق کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے جو سکینت اس ماں کو ملتی ہے جس کا میں نے نقشہ کھینچا ہے اس سکینت سے یہ ادنی لذتوں کو تلاش کرنے والی لڑکیاں بالکل عاری ہوتی ہیں۔ہر وقت بے چین زندگی گزرتی ہے اور جس چیز کی تلاش ہے پتہ نہیں وہ کیا ہے اور وہ میسر نہیں آتی۔اس لئے جو وقت میں کہتا وہ