حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 106
کہنے سے نہیں ہوگی بنا می اگر ہوگی تو جھوٹ بولنے والوں کی وجیسے ہوگی بعض بیچارے جھوٹ بولنے کے معصوماً عاری ہیں۔وہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں پتہ بھی نہیں لگتا کہ وہ کوئی بڑا کام کر رہے ہیں بچپن سے وہ ایسے ماحول میں پہلے میں کہ روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی یا توں پر بھی گپ مارنا اور جھوٹ بولنا ان کی عادت ثانیہ بنا ہوا ہے بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ جب سنجیدہ بات ہو رہی ہو تو اُس وقت وہ جھوٹ نہیں بولتے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہر حال ان میں نیکی کا غلبہ ہے۔لیکن یہ عادتیں (کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں جھوٹ بولنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا جائے خطرناک ہیں۔یہ غلط ماحول پیدا کرتی ہیں اور اگلی نسلوں کو تباہ کرنے کا موجب بن سکتی ہیں۔اس لئے ان چھوٹی معمولی معمولی عادتوں سے بھی کلیتہ پر ہیز ضروری ہے لجنہ اما والد اس سلسلہ میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے وہ اس لئے کہ خواتین اگلی نسلوں کی فیکٹریاں ہیں، جسمانی لحاظ سے بھی فیکٹریاں ہیں اور روحانی واخلاقی لحاظ سے بھی فیکٹریاں ہیں۔وہ جیسی نسلیں چاہیں پیدا کر کے آئندہ وقتوں کے لئے بھیج سکتی ہیں۔اس لئے ہر دو نسلوں کے سنگم پر نئی نسل کو سنوارنے کے سلسلہ میں سب سے اہم کردار اگر کوئی ادا کرتا ہے تو عورت ادا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ باپوں کے پاؤں تلے جنت ہے بلکہ یہ فرمایا کہ ماؤں کے پاؤں تلے جنت ہے۔اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی گہری حکمتیں بیان فرما دی گئیں اور متعد د حکمتیں بیان فرما دی گئیں۔ان حکمتوں میں سے ایک یہ ہے که آئندہ نسلوں کا کر دار بنانے میں عورت سب سے زیادہ اور سب سے اہم حصہ لیتی ہے مسلمان عورتوں سے یہی توقع کی جاتی ہے کیونکہ مسلمان عورتوں پر امت محمدیہ میں شامل ہونے کی ویسے آنحضور صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ حسن ظن ہے کہ میری اُمت کی عورتیں ایسی ہوں گی کہ ان کے پاؤں تلے سے جنت پھوٹا کرے گی۔پاؤں تلے سے جنت پھوٹنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ اگلی نسل جو بعد میں آنے والی ہے وہ اعلیٰ تربیت کے نتیجہ میں منبتی پیدا ہوتی رہے گی۔پس دیکھیں کتنی بڑی حسن ظنی ہے جو آپ پر کی گئی ہے اور کتنا اہم پیغام ہے