ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 82

AN هستی باری تعالیٰ ہم کہتے ہیں مشاہدے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں غلطی لگ سکتی ہے دوسرا وہ جن میں غلطی لگنے کا امکان نہیں ہوتا۔ایک مشاہدہ تو یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص دور سے ایک شکل دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے لیکن ایک اور شخص اسے ملتا ہے جو بتاتا ہے کہ وہ اس شخص کو کسی اور جگہ پر دیکھ کر آیا ہے اس وقت اس شخص کی بات قبول کی جاتی ہے جو قریب سے دیکھ کر آیا ہے اور اس کی رد کر دی جاتی ہے جس نے دور سے دیکھا تھا۔اس لئے نہیں کہ مشاہدہ مشتبہ شئے ہے بلکہ اس لئے کہ خود مشاہدوں کے مختلف درجے ہیں اور پہلے شخص کے مشاہدہ کے مقابلہ میں دوسرے شخص کا قریب کا مشاہدہ جب پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پہلے مشاہدہ میں غلطی لگ گئی تھی لیکن ایک مشاہدہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً ایک شخص مجھ سے باتیں کرے اور اس وقت لوگ بھی موجود ہوں اور وہ بھی اس امر پر شاہد ہوں کہ ہاں فی الواقع اس نے مجھ سے باتیں کی ہیں اس کے بعد کوئی شخص مجھے آکر کہے کہ میں نے تو اسے لاہور میں دیکھا ہے۔تو اس صورت میں مجھے اپنے مشاہدہ کے متعلق کوئی شبہ نہ ہوگا بلکہ میں اس شخص کی نسبت یہی یقین کروں گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یا غلطی خوردہ ہے۔اسی طرح شعبدہ باز اگر اپنی ہتھیلی پر روپیہ بنانے کی بجائے میری تھیلی پر روپیہ بنائے تو اس کے رو پیر بنانے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ تو اپنی ہی تھیلی پر روپیہ بناتا ہے جس کی نسبت یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس نے کسی نہ کسی جگہ روپیہ چھپا کر رکھا ہو اہوگا پس شعبدہ باز کی شعبدہ بازی مشاہدہ نہیں کہلا سکتی مگر خدا کے کلام میں ایسا شبہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ تو پر شوکت آواز میں یا من وراء حجاب تعبیر طلب خوابوں کے ذریعہ سے ایک نہیں دو نہیں، سینکڑوں بندوں سے کلام کرتا ہے۔