ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 52

۵۲ کروڑوں کروڑ میل پر سورج بھی پیدا کیا گیا ہے جس کی روشنی میں یہ آنکھوں سے کام لے۔انسان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اسے اگر بیماری اور شفاء کا مورد بنایا گیا ہے تو ساتھ ہی سب بیماریوں کا علاج بھی مہیا کیا گیا ہے۔آخر تمام عالم میں ایک نظام اور چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کو پورا کرنے کا سامان جو کروڑوں اشیاء کی پیدائش اور لاکھوں حالتوں میں واقعات کے مناسب بدل جانے والے قانون کو چاہتا تھا اتفاقا کس طرح ہو سکتا ہے۔انسانی دماغ اس کو یاد کس طرح کر سکتا ہے کہ اس قدر وسیع نظام آپ ہی آپ اور اتفاق ہو گیا۔یہ نظام بغیر کسی بالا رادہ ہستی اور وہ بھی بغیر کسی عالم الغیب اور قادر ہستی کے کسی صورت میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔قرآن کریم نے اس دلیل کو بھی پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تبرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ إِلَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفُوتٍ ط فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِن فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصْرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسیر ( الملک : ۲ تا ۵) وہ خدا جس کے ہاتھ میں سب بادشاہت ہے۔بہت برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔جس نے موت و زندگی کو پیدا کیا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔وہ جس نے سات آسمان پیدا کئے جو ایک دوسرے کے مطابق کام کر رہے ہیں۔تو خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی رخنہ نہیں دیکھے گا۔اس امر کو دیکھ اور پھر اپنی نظر کو پھر ا پھرا کر دیکھ۔کیا تجھے کوئی بھی نقص نظر آتا ہے۔( یعنی صحیح حاجت ہو اور اس کے پورا کرنے کا سامان نہ ہو ) پھر دوبارہ اپنی نظروں کو چکر دے مگر وہ پھر بھی نا کام اور تھک کر واپس آجائیں گی۔