ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 53

۵۳ یعنی کل کائنات عالم میں ایک ایسا نظام معلوم ہوتا ہے جس میں کوئی بھی نقص نہیں۔ایک لمبا سلسلہ قوانین کا جاری ہے جو کہیں بھی ٹکراتا نہیں۔کیا یہ آپ ہی آپ ہو سکتا ہے؟ نہیں بلکہ یہ نظام دلیل ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جو بالا رادہ خالق ہے اور مالک ہے اور غالب ہے اور بخشنے والی ہے۔پہلا اعتراض اس دلیل کے متعلق بعض اعتراض کئے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں اول بعض چیزوں کے متعلق تو انتظام پایا جاتا ہے مگر بعض میں نہیں۔مثلاً یہ درخت جو جنگلوں میں اُگے ہوئے ہیں یا یہ جانور جو چلتے پھرتے ہیں اور یہ پرندے جواڑتے پھرتے ہیں، یہ انسان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ان میں سے دو چار کھانے کے قابل ہیں۔لیکن باقی لغو ہیں۔سانپ بچھو اور ایسے ہی موذی جانور۔زہر یلے درخت اور پودے کیا کرتے ہیں؟ ان کا انسان کے فائدہ کے لئے کوئی کام نہیں ہے۔جوار اس اعتراض کا مفصل جواب تو صفات باری کے بیان میں آئے گا۔یہاں مجمل طور پر بتا تا ہوں کہ ان جانوروں کی پیدائش میں بے انتظامی نہیں بلکہ یہ انسان کیلئے خزانے ہیں جو ضرورت کے وقت کام آتے ہیں اور یہ جانور وغیرہ جن کو لغو کہا جاتا ہے ضرورت پر بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً سانپ ہی ہے۔اس کا زہر دوائیوں میں کام آتا ہے۔اسی طرح بچھو سے دوائیاں بنتی ہیں اور کئی ایسی چیزیں ہیں جن کو پہلے لغو اور فضول سمجھا جاتا تھا