ہستی باری تعالیٰ — Page 28
۲۸ خدا تعالیٰ کی ذات خدا تعالیٰ کی ذات کیسی ہے؟ اس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام : ۱۰۴) ابصار علم کو بھی کہتے ہیں۔اس لئے اس کا یہ مطلب ہوا کہ تم خدا کو ان ظاہری آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے علم اور فہم سے بھی نہیں دیکھ یا معلوم کر سکتے۔مگر جب اللہ تعالیٰ خود تم پر اپنا اثر ڈالے تو جس طرح لوہے پر مقناطیس کا اثر پڑنے سے مقناطیس کا پتہ لگ سکتا ہے اسی طرح تم خدا کے اثر سے اس کو معلوم کر سکتے ہو۔اس مرحلہ پر پہنچ کر منکرین خدا کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اچھا جس طرح تم چاہو خدا کی ہستی کو ثابت کرو اور جو ثبوت اس کے ہونے کے ہو سکتے ہیں وہ دو۔اس لئے اب وہ دلائل بیان کئے جاتے ہیں جن سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے۔ہستی باری کی پہلی دلیل اس کے لئے پہلی دلیل تو ہم قبولیت عامہ کی لیتے ہیں یعنی یہ کہ خدا کا خیال ہر قوم میں پایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے سے بڑے منکر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں کہ قبولیت عامہ بہت بڑی دلیل ہے۔چنانچہ سپنسر سےجود ہریت کا بانی ہوا ہے۔(اگر چہ اس نے اس کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اس کی کتابوں پر دہریت کی بنیاد رکھی گئی ہے ) اس نے لکھا ہے کہ جس بات کو ساری دُنیا مانتی ہو وہ بالکل غلط نہیں ہو سکتی اس کی ضرور کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتی ہے۔پس جبکہ ہم ساری اقوام کو دیکھتے ہیں کہ ان میں خدا کا خیال پایا جاتا ہے جیسا کہ ابھی میں نے بتایا