ہستی باری تعالیٰ — Page 176
124 لگتا ہے حالانکہ جولوگ واقف ہیں وہ کبھی اس کے یہ معنی نہیں لیتے کہ عدم سے گھڑ کر وجود بنا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ پہلے نہ تھیں پھر ہو گئیں۔آریہ مذہب بھی اس دھو کے کا شکار ہو رہا ہے کہ جب مادہ نہیں تھا تو خدا نے مخلوق کو پیدا کس طرح کیا ؟ اس لئے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مادہ کو پیدا نہیں کیا مگر یہ استدلال بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا بندوں کی صفات پر قیاس کرنا ہی غلط ہے۔کوئی انسان بغیر آنکھ کے نہیں دیکھ سکتا۔خدا تعالیٰ بغیر آنکھوں کے دیکھ سکتا ہے۔کوئی چیز دنیا میں مادہ کے بغیر نہیں بن سکتی۔خدا تعالیٰ کی نسبت آریہ بھی مانتے ہیں کہ بغیر مادہ کے ہے۔ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی چیز کہیں رکھی ہوئی ہو تو وہ دوسری چیزوں کی راہ میں روک ہوتی ہے اور ان کے دائرہ کو محدود کر دیتی ہے۔مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے سواروح اور مادہ کو بھی آریہ مانتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کو محدود نہیں مانتے۔ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے متعلق ہم ان قوانین کو جاری نہیں کر سکتے جو مادہ اور روح کی حالتوں پر قیاس کر کے ہماری عقل تجویز کرتی ہے۔جب یہ بات ہے تو یہ کس دلیل سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ مادہ کو پیدا نہیں کر سکتا۔اگر اس کی ذات ہماری عقلوں سے بالا ہے تو ہماری عقلوں کے ماتحت اس کے لئے قانون کس طرح بیان کئے جاسکتے ہیں۔خدا تعالی مادہ کا خالق ہے یہ بات کہ خدا تعالیٰ مادہ کا خالق ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ انسانی قواعد اور انسانی طاقتوں کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے اور طریق ہیں اور میرے نزدیک وہ ایسے سہل ہیں کہ ان پڑھ آدمی بھی ان کے ذریعہ سے حق کو معلوم کر سکتے