ہستی باری تعالیٰ — Page 175
۱۷۵ پر ہوتا ہے۔عدم کوئی چیز نہیں جس پر انعکاس ہو۔اس عقیدہ کے پیش کرنے والے بڑے پائے کے لوگ ہیں۔معلوم ہوتا ہے ان پر حقیقت کھلی ہے مگر یا اسے بیان نہیں کر سکے یا اسے استعارہ میں مخفی کر دیا ہے۔پانچواں عقیده پانچواں عقیدہ یہ ہے کہ دنیا خدا کا غیر ہے لیکن اس کی غیر یت اس قسم کی نہیں جس قسم کی کہ انسانی ذہن میں آیا کرتی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہے یہ خدا تعالیٰ کے علم اور اس کے ارادہ سے پیدا ہوا ہے نہ نیست سے ہوا ہے کہ نیست کوئی چیز نہیں اور نہ ہست سے ہوا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی چیز قائم بالذات نہیں بلکہ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس قسم کی چیز جو اس کے علم میں تھی ظاہر ہو جائے پس اس کی قضاء نے اسے متمثل کر دیا پس جو کچھ بھی دنیا میں ہے یہ سب متمثلات ہیں جو علم الہی کے مطابق قضاء الہی سے ظاہر ہوئے۔باقی رہی پوری کیفیت سو کوئی چیز جب تک غیر حادث نہ ہوا اپنی پوری کیفیت کو سمجھ ہی نہیں سکتی پس انسان کا یہ خیال کہ وہ اس حقیقت کو پوری طرح پا لے گا ایک خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔پہلے عدم بہت پھر مخلوق پیدا ہوئی اصل میں سارے شبہات اس بات سے پیدا ہوتے ہیں کہ عدم سے وجود کس طرح ہو جاتا ہے۔مگر کہیں قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ عدم سے وجود ہو گیا۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ چیز میں نہ تھیں اور پھر پیدا ہو گئیں۔عدم سے پیدا ہو گئیں۔ہوا ایک فقرہ ہے جس سے دھوکا