ہستی باری تعالیٰ — Page 122
کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے۔اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصے ہو ا اور اندر جانا نہ چاہا۔مگر اس کا باپ باہر جا کے اسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منا تا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔اس نے اس سے کہا بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادماں ہونا مناسب تھا۔کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا اب زندہ ہو ا کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔“ ( لوقا باب ۱۵ آیت ۱۱ تا ۳۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۰۶ء) اس تمثیل سے حضرت مسیح نے یہ بتایا ہے کہ خدا کو بھی بندہ سے ایسا ہی پیار اور محبت ہے اور جو بندہ گناہ کر کے پچھتاتا ہو ا خدا کے پاس آتا ہے اس پر اسی طرح رحم کرتا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے پر۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح" تو خدا تعالیٰ کے بندوں سے تعلق کو اوپر کی تمثیل سے واضح کر کے اسے بہترین عفو کر نے والا قرار دیتے ہیں مگر مسیحی اسے ایسا ظالم قرار دیتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی التجا کرے وہ اسے معاف ہی نہیں کرتا۔کیا اس باپ نے جس کی حضرت مسیح نے تمثیل دی ہے اپنے آنے والے بیٹے کو پہلے مارا اور پھر معاف کیا تھا یا اس کی ندامت کو قبول کر کے بغیر کسی سزا کے معاف کر دیا تھا اور اس کے