ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 123

آنے پر خوش ہوا تھا۔اگر اس کے آنے پر باپ نے کہا ہوتا کہ پیٹھ تنگی کرتا کہ پہلے تمہیں سزا دے لوں اور پھر چھوڑ دوں گا۔یا یہ کہ پہلے بڑے بیٹے کو بلا کر کفارہ کے طور پر کوڑے مارے ہوتے پھر چھوٹے کو معاف کیا ہوتا۔تب تو کہہ سکتے تھے کہ کفارہ کا خیال درست ہے مگر ایسا نہیں ہوا حضرت مسیح نے اس تمثیل کے ذریعہ سے درحقیقت کفارہ کے مسئلہ کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح" کو الہام کے ذریعہ سے پتہ لگ گیا تھا کہ ان کے ماننے والے اس قسم کا عقیدہ بنالیں گے۔اس لئے انہوں نے اس تمثیل کے ذریعہ سے اس زہر کا ازالہ کر دیا۔مسیحیوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق جو عقیدہ ہے اس میں یہ بھی نقص ہے کہ وہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور دوسری طرف یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ موت کا شکار ہوئے اور بعض کے نزدیک وہ لوگوں کے گناہوں کے سبب سے تین دن تک جہنم میں بھی رہے اور سزا پاتے رہے گویا خدا نعوذ باللہ جہنم کی سزا تین دن تک بھگتارہا اور یہ عقیدہ ایسا ہے کہ اس کا نقص خود ہی ظاہر ہے۔اس پر کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔زرتشتیوں کا خدا کے متعلق خیال مسیحیوں کے بعد میں زرتشتیوں کے عقائد کو لیتا ہوں۔ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ اس سے صرف ٹور آتا ہے تکلیف اور دُکھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آسکتا اور اس لئے وہ خدا کے مقابلہ میں ایک اور طاقت بھی مانتے ہیں جس سے ظلمت اور گناہ اور دُکھ پیدا ہوتا ہے اور دُنیا میں جس قدر تغیرات ہوتے ہیں ان کے نزدیک وہ سب انہی دوبالا ہستیوں کی جنگوں کے نتیجہ میں ہوتے ہیں کبھی ایک غالب آجاتا ہے کبھی دوسرا۔