ہستی باری تعالیٰ — Page 121
۱۲۱ ذریعہ سے کیفیت بیان کی ہے۔د کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا۔اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سور کھاتے تھے، انہیں سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگالیا اور بوسے لئے۔بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھاجامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ اور پہلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس وہ خوشی مانے لگے لیکن اس