ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 120

۱۲۰ نجات پا جائے گا کیونکہ مسیح اس کا کفارہ ہو گئے ہیں اور اب بغیر اس کے کہ خدا کے عدل میں فرق آئے وہ لوگوں کو نجات دے سکتے ہیں۔عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق خدا پر اعتراض مگر اس عقیدہ کے مطابق خدا پر کئی الزام عائد ہوتے ہیں۔گو زبان سے خدا کو رحیم رحیم کہیں لیکن اگر اس کے متعلق یہ مانیں جو عیسائی کہتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ گناہ کرنے کے بعد خواہ کوئی کتنی التجائیں کرے ناک رگڑے خدا اس کی درخواست کو رڈ کر دے گا کیونکہ وہ اس کا گناہ معاف نہیں کر سکتا۔اب اگر خدا رحیم ہے اور ہم سے زیادہ رحیم تو جب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی ہمارا قصور کر کے ہم سے رحم کی التجا کرتا ہے تو ہم اسے معاف کر دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا معاف نہیں کرتا۔یہ کہنا کہ اس سے اس کے عدل میں فرق آتا ہے بالکل باطل ہے کیونکہ جب ہم کسی کو معاف کر دیتے ہیں تو کیا ہماری نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عادل نہیں ہیں۔اگر باوجو د رحم کے ہم عادل کے عادل ہی رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اگر رحم کرے تو وہ عادل نہیں رہتا۔مسیحیت کو سب سے زیادہ اس بات پر ناز ہے کہ اس میں خدا کو باپ قرار دیا گیا ہے۔کیا باپ اپنے بچوں سے ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جو سیحی کہتے ہیں کہ خدا بنی نوع انسان سے کرتا ہے خواہ وہ کس قدر بھی تو بہ کیوں نہ کریں وہ ان کے قصور معاف نہیں کرتا۔مسیحی یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیوی باپ بوجہ کم علمی اور جہالت کے ایسا کرتے ہیں ورنہ اگر وہ عدل کو مہِ نظر رکھیں تو اپنے بچوں کا قصور بغیر کفارہ کے معاف نہ کریں کیونکہ خود مسیح علیہ السلام نے انجیل میں خدا کو باپ سے تمثیل دے کر انسان سے سلوک کی مندرجہ ذیل حکایت کے