ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 110

11+ نیکیوں کو سمجھ سکتا ہے جو ایک خدا پرست کرتا ہے اس لئے کہ کئی نیکیاں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے میں کرنے والے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ ماں باپ سے نیک سلوک کرنا بچے کے لئے کسی رنگ میں بھی مفید نہیں ہو سکتا۔پس ان کے آرام کے لئے تکلیف اُٹھانا یا ان پر مال خرچ کرنا ایک دہریہ کے لئے بدی ہونا چاہیئے اور وہ روپیہ جو اُن پر خرچ کیا جاتا ہے اس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا نیکی ہونا چاہئے لیکن دہر یہ عملاً ایسا نہیں کرتا وہ بھی ماں باپ سے نیک سلوک کرتا ہے حالانکہ عقلاً یہ کام صرف خدا کا ماننے والا کر سکتا ہے۔کیونکہ وہ شکر گزاری کو نیکی سمجھتا ہے اور شکر گزاری صرف خدا کو مان کر ہی نیکی کہلا سکتی ہے۔اس کے علاوہ اور بہت سی نیکیاں ہیں جو صرف اسی تعریف کے ماتحت نیکی کہلا سکتی ہیں کہ ایک کامل وجود ہے جو اپنے حسن میں بے مثل ہے۔اس کی مشابہت پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے ورنہ فائدہ اور خوشی کے لحاظ سے وہ نیکیاں نہیں کہلا سکتیں اور جس قدر نیکیاں کہ جان کی قربانیاں یا ساری عمر کے آرام کی قربانیاں چاہتی ہیں وہ سب اسی تعریف کے ماتحت نیکیاں کہلاسکتی ہیں۔پس خدا پرست ہی کے لئے موقع ہے کہ وہ کامل نیک ہو سکے۔جو خدا کو نہیں مانتا اگر وہ اپنے دعوئی کے مطابق عمل کرے تو اس کے لئے نیک بننے کی کوئی صورت ہی نہیں۔مگر عجیب بات ہے کہ د ہر یہ خدا کے ماننے والوں کے اخلاق پر تو اعتراض کر جاتا ہے مگر جہاں اس کی تعریف نیکی کی رہ جاتی ہے وہاں وہ اپنے دعوئی کے خلاف خدا کو ماننے والے کی تعریف کے مطابق نیکی کر کے اپنی ضمیر کو خاموش کرنا چاہتا ہے گو اس کا عمل اس کے دعوی کو رد کر رہا ہوتا ہے۔