ہستی باری تعالیٰ — Page 107
1+2 ٹوٹنے لگے تو کیا اسے روکنا نہیں چاہئے بلکہ کہنا چاہئے کہ جس قدر لے جاسکتے ہو لے جاؤ کیونکہ مال سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور یہ نیکی ہے۔اس پر کہتے ہیں نیکی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو زیادہ نفع پہنچے اور بدی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچے۔مگر اس تعریف سے تو وہی اعتراض منکرین خدا پر عائد ہو گیا جو وہ خدا کو ماننے والوں پر کرتے تھے۔کیونکہ ان کا اعتراض تو یہی تھا کہ خدا کو ماننے والے نیکی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔لیکن اگر نیکی کی یہ تعریف ہے کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی یا نفع پہنچے تو پھر ایک دہر یہ بھی تو نیکی کی خاطر نہیں بلکہ خوشی اور نفع کی خاطر کرتا ہے پس اگر خدا کو ماننے والا نیکی خدا کی خوشی کی خاطر کرتا ہے یا بدی سے اس کی سزا سے ڈر کر بچتا ہے تو اس پر اعتراض کیوں ہو؟ بعض یورپ کے فلاسفر نیکی کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ نیکی ایک فرض کا نام ہے مگر یہ تعریف بھی ان کے کام نہیں آسکتی۔کیونکہ فرض وہ چیز ہے جسے کوئی دوسرا وجود ہمارے لئے مقرر کر دیتا ہے۔اگر نیکی کو فرض قرار دیا گیا تو فرض مقرر کر نے والے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔غرض منکرین خدا کا یہ دعوئی کہ ان کے کاموں کا مقصد خدا پرستوں سے اعلیٰ ہے کیونکہ وہ نیکی نیکی کی خاطر کرتے ہیں، ایک دھوکا ہے ایک فریب ہے کیونکہ وہ خدا کو چھوڑ کر مجبور ہیں کہ نیکی کی تعریف یہ کریں کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی ہو یا فائدہ ہو اور اسی تعریف کے ماتحت وہ لالچ کے الزام سے بچتے نہیں بلکہ اور بھی زیادہ اس الزام کے نیچے آجاتے ہیں ان کے تمام کام اپنے ذاتی نفع اور ذاتی فائدہ کے لئے ہوتے ہیں۔