ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 280

۲۸۰ دیں کہ بچہ آپ تلاش کر کے پی لے گا بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ بچہ کو خود تعتمد دودھ پلاتے ہیں اور اگر وہ نہ پئے تو حیرا پلاتے ہیں۔اسی طرح جب بندہ اس مقام پر آتا ہے تو لوگوں کے پیچھے پڑپڑ کر انہیں ہدایت منواتا ہے اور اسی پر کفایت نہیں کرتا کہ صرف وعظ کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ طائف میں تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور آپ واپس آگئے۔آتے ہوئے رستہ میں ایک جگہ ستانے لگے باغ والے نے اپنے غلام کے ہاتھ کچھ میوہ آپ کے لئے بھیجا آپ نے میوہ کی طرف تو کم ہی توجہ کی اس غلام ہی کو تبلیغ کرنے لگ گئے اور آپ کا یہ ہمیشہ دستور تھا کہ جہاں مکہ کے لوگ جمع ہوتے آپ وہاں چلے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے۔حج کے لئے جو لوگ آتے ان کے خیموں میں تشریف لے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے اور اس طرح نہیں کہ کوئی مل گیا تو اسے تبلیغ کر دی بلکہ آپ تلاش کرتے پھرتے اور ڈھونڈ کر انہیں حق پہنچاتے جس طرح ماں باپ بچے کو تلاش کر کر کے کھلاتے پلاتے ہیں کہ بھوکا نہ رہ جائے۔غرض اس صفت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو دُنیا کا باپ یا ماں فرض کرے اور لوگوں کے فائدے کا خود خیال رکھے اور خواہ لوگ اس کی بات نہ بھی مانیں تب بھی ان کے پیچھے پڑا رہے۔جب انسان اپنے قلب کو ایسا بنالیتا ہے تو ایسے آدمی کو ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم اس سے کچھ لے سکتے ہیں ان پر وہ جبر بھی کر سکتا ہے اور سزائیں بھی دے لیتا ہے اور اسی طرح ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔وہ کچھ لوگوں کو منتخب کر کے ان کو سکھاتا سیرت ابن ہشام عربی جلد نمبر ۲ صفحه ۶۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء