ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 279

۲۷۹ بنده خدا کا مہمان گویا ایسے بندے خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور وہ ہر منزل پر ان کا استقبال کرتا ہے۔جب انسان مالکیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا مالکیت کی شکل میں آتا ہے اور کہتا ہے آئے۔جب رحیمیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا رحیمیت کی شکل میں آتا ہے اور کہتا ہے آئے۔جب انسان رحمانیت کی منزل پر ہوتا ہے تو اللہ جل جلالہ رحمانیت کی صورت میں آتا ہے اور فرماتا ہے آئیے۔رحمانیت کا مقام ایک نہایت ہی وسیع مقام ہے۔اس مقام پر کئی کئی باتیں انسان کو بتائی جاتی ہیں اور رحمانیت کے ساتھ جو ہدایت تعلق رکھتی ہے وہ سکھائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ (الرحمن:۳،۲) رحمن نے قرآن سکھایا ہے۔یعنی کلام الہی کا نزول صفت رحمانیت سے تعلق رکھتا ہے۔اس مقام والا پیچھے نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ نئے نئے اخلاق اسے سکھاتا ہے اور نئے نئے ترقی کے سامان اسے دیتا ہے۔رب العالمین بننا صفت رحمانیت کو حاصل کرنے پر جب بندہ پر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ کرتی ہے تو اس میں پھر ایک نیا جوش پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اور اوپر چڑھے اس وقت اس کے لئے اگلی منزل آسان ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ آؤ اب میں رب العالمین کی صفت کا بھی جلوہ گاہ بنوں۔رب کا کام جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ماں باپ کے کام سے مشابہ ہوتا ہے۔ماں باپ یہ نہیں کیا کرتے کہ دُودھ گھر میں رکھ