ہستی باری تعالیٰ — Page 267
یہ مالکیت ایسی ہے کہ اسے کوئی بادشاہ بھی نہیں چھین سکتا اور اس کا نام حریت ضمیر ہے۔بادشاه مال چھین سکتے ہیں، جائدادیں چھین سکتے ہیں، وطن سے نکال سکتے ہیں لیکن با وجود اس کے اس جی کی صفت کو نہیں چھین سکتے۔اگر پھانسی پر بھی چڑھا دیں گے تو اس وقت بھی پھانسی پر چڑھنے والے کا دماغ کام کر رہا ہوگا اور فیصلہ کر رہا ہوگا کہ یہ بادشاہ ظالم ہے یا انصاف کے ماتحت اسے پھانسی دے رہا ہے۔یہ صفت در حقیقت خدا تعالیٰ کا ایک جلوہ ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے۔اب یہ تو معلوم ہو گیا کہ خدا نے انسان کو ملک یوم الدین بنانے کی طاقت اس میں رکھی ہے مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات تو مؤمن وکا فرسب میں پائی جاتی ہے پس یہ سیر فی اللہ کا زینہ کس طرح بن سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ طاقت لقاء تو سب میں رکھی گئی ہے ہاں سیر کے لئے اس طاقت کو خاص طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور چونکہ لقائے الہی خدا تعالیٰ کی صفات کی مشابہت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے سیر فی اللہ کے لئے ضروری ہوگا کہ سب سے پہلے انسان اس جی کی مخفی طاقت کو اسی طرح استعمال کرے جس طرح کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت مالکیت کو استعمال کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت ملک یوم الدین کس طرح عمل کرتی ہے؟ قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت ملک یوم الدین کو مندرجہ ذیل اُصول کے مطابق استعمال فرماتا ہے۔اول اصل اس صفت کے اجراء کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر چیز کے تمام پہلوؤں کو جان کر فیصلہ کرتا ہے، بے جانے کوئی