ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 249

۲۴۹ هستی باری تعالیٰ کی ترقی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔چنانچہ علوم کی ترقی مؤمن کے اس عقیدہ کی تصدیق کر رہی ہے۔لڑائی سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ دُنیا تین ہزار سال کی روشنی کے برابر لبی ہے یعنی اس قدر لمبی ہے جتنا عرصہ روشنی کی شعاع تین ہزار سال میں طے کر سکتی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ روشنی کے بارہ ہزار سال سے بھی زیادہ دنیا کا طول ہے اور ابھی کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تحقیق بھی غلط ثابت ہو کر اس سے بہت زیادہ لمبائی دنیا کی معلوم ہوگی۔یہ امر بتانے کے بعد کہ صفات الہیہ کے علم سے انسان کو ذہنی طور پر کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ صفات الہیہ سے انسان عملی طور پر کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ انسان دنیا میں خدا سے کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے؟ انسان چاہتا ہے کہ اسے عزت حاصل ہو اور ادھر دیکھتا ہے کہ خدا کا ایک نام معزز ہے۔اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ ادھر ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے اس کو کیوں نہ کہوں کہ اے معرة ! مجھے عزت دے۔پھر انسان کو رزق کی ضرورت ہوتی ہے اور خدا رازق ہے جو اس کی اس صفت سے واقف ہے وہ بجائے ادھر ادھر دھکے کھانے کے اسی کے حضور میں کہے گا کہ اے رزاق ! مجھے رزق دے۔یا پھر کبھی ہم مصائب اور مشکلات میں مبتلاء ہوتے ہیں۔خدا کی صفت كَاشِفَ السُّوءِ بھی ہے یعنی بدی کو مٹا دینے والا اس لئے ہم اسی سے کہیں گے کہ اے