ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 247

۲۴۷ کے غیر محدود ہونے کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔مگر آپ نے ایک شرط ساتھ لگائی ہے اور وہ یہ کہ موت کا کوئی علاج نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موت ترقی کے راستہ میں روک نہیں بلکہ ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔اس کے ذریعہ سے انسان ترقی کرتا ہے کیونکہ موت کے بعد ہی انسان ان وسیع قوتوں کو پاتا ہے کہ اس دنیا کی عمر بھر کی ترقی اُس دنیا کے گھنٹوں کی ترقی کے برابر نہیں اتر سکتی۔خدا کی مخلوق کی وسعت قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا - (الكهف:۱۱۰) که اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے خدا تعالیٰ نے جو علوم بنائے ہیں انہیں لکھنا شروع کیا جائے تو سمند ر ختم ہو جائیں گے مگر یہ نہیں ہو گا کہ خدا کے بنائے ہوئے علوم ختم ہو جائیں۔خدا کے منکر تو ایک ایک ذرہ پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے یہ بات معلوم کر لی اور یہ معلوم کر لی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم تحقیقا تیں کر کر کے ان کو سمندر سے لکھتے جاؤ تو پھر بھی خدا کے خزانے ختم نہ ہوں گے یہ انسانی نقطۂ نگاہ کے مطابق غیر محدود ترقی علوم صفت واسع کے ماتحت ہے۔پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ ہماری دنیا کی چیزیں تو ختم ہو جاتی ہیں۔مثلاً کوئلہ ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ تک یہ ختم ہو جائے گا ؟ ہمارے ملک میں کوئلہ کے ختم ہونے کے نتائج کو اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔مگر یورپ کے اکثر کام چونکہ اس کی مدد سے ہو رہے ہیں وہ اسے بہت بڑی مصیبت سمجھتا ہے غرض کہا جاتا ہے کہ اگر کوئلہ یا تیل ختم ہو