ہستی باری تعالیٰ — Page 246
۲۴۶ کوئی نظام اور قاعدہ نظر آتا ہے تب کوئی خدا نہیں وہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کا تو ہر فعل حکمت پر مبنی ہے اور اس کے بنائے ہوئے تمام قوانین مضبوط اور بار یک نظام پر مشتمل ہیں ابھی انہوں نے دریافت ہی کیا کیا ہے۔مثلاً ان لوگوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انسان بحیثیت ذات ایک مفرد وجود نہیں بلکہ انسانی جسم باریک ذرات سے بنا ہوا ہے جو خود اپنی اپنی زندگی رکھتے ہیں گویا یہ ذی حیات وجود کی بستی ہے اور پھر اس سے بڑھ کر انہوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ وہ ذرات جن سے انسان بنا ہے خود باریک ذرات سے مل کر بنے ہیں گویا وہ خود مرکب ہیں ان امور سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عالم وجود ایک قانون کے ماتحت بنا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا بنانے والا کوئی نہیں۔مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہ تو دو قدم مبدأ حیات کی طرف جا کر اس قدر پھول گئے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان اور خدا کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں۔یعنی کثیر التعداد واسطے در واسطے چلے جاتے ہیں تب کہیں جا کر امر محض تک پیدائش عالم کا سلسلہ پہنچتا ہے اس علم کے مقابلہ میں یورپ کی تحقیق کس قدر حقیر ٹھہرتی ہے بلکہ جہالت نظر آتی ہے۔موت کے ذریعہ ترقی اہل مغرب کا ہر تحقیق پر یہ شور مچا دینا کہ انہوں نے پیدائش عالم کی گویا کہ وجہ دریافت کر لی ہے اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ علم کو محدود سمجھتے ہیں ورنہ اگر وہ یہ سمجھیں کہ ابھی تو غیر محدود علوم پیچھے چھپے پڑے ہیں تو اس قدر خوش کیوں ہوں اور اترائیں کیوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کس طرح ایک صفت الہیہ پر قیاس کر کے علوم