ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 164

۱۶۴ چیزوں کے آگے سجدہ کرنے سے روکا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ سب کچھ خدا ہی ہے پھر بھی بعض مظاہر کی پرستش شرک ہی کہلائے گی۔کیونکہ جولوگ بتوں کو سجدہ کرتے ہیں وہ انہیں خدا سمجھ کر نہیں کرتے۔بلکہ خدا کے قائم مقام سمجھ کر کرتے ہیں۔پس چونکہ وہ یہ خیال کرتے ہوئے ان کو سجدہ کرتے ہیں کہ یہ خدا نہیں ہیں اس لئے ان کا یہ فعل شرک ہے۔ہر چیز کو اللہ کہنے والوں کے دلائل کا رد اب میں ان لوگوں کے دلائل کا رد بیان کرتا ہوں۔اول لا إلهَ إِلَّا الله کے وہ معنے جو یہ لوگ کرتے ہیں بالکل غلط ہیں۔الہ کے معنی انہوں نے زبردستی سے کر لئے ہیں اور پھر ان پر اپنے دعویٰ کی بنیا درکھ دی ہے حالانکہ عربی میں اس لفظ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی معبود ہو سچا ہو یا جھوٹا دوسرے یہ کہ وہ معبود جو سچا ہو جھوٹا نہ ہو۔قرآن کریم میں ان دونوں معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے مگر انہوں نے یہ معنی لے لئے ہیں کہ کوئی جھوٹا معبود بھی نہیں حالانکہ جب قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر صاف بیان ہے کہ لوگ خدا کے سوا اور معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تو اللہ کے معنے بچے معبود کے سوا جائز ہی نہیں کیونکہ صحیح معنی وہی ہوتے ہیں جو بولنے والے کے منشاء کے مطابق ہوں۔اب جو اللہ تعالیٰ دوسری جگہوں میں صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوا بھی لوگ دوسروں کی پوجا کرتے ہیں تو لا إلهَ إِلَّا الله کے یہ معنی نہیں کئے جاسکتے کہ اس کے سوانہ کوئی جھوٹا معبود ہے نہ سچا بلکہ اس کے یہی معنے کئے جائیں گے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور ان معنوں سے ہرگز وحدت وجود کا مسئلہ نہیں نکلتا۔اب کوئی کہے کہ جب اس لفظ کے دو معنی تھے تو وہی کیوں نہ مانے جا ئیں جو وحدت