ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 165

۱۶۵ هستی باری تعالیٰ وجودی کرتے ہیں اور کیا اس طرح وہ کلمہ جس پر اسلام کی ساری بنیاد ہے مشتبہ نہیں ہو جاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لفظ کے مختلف معنی دیکھ کر ہر جگہ پر اس کے تمام معنوں کو استعمال کرنا درست نہیں ہوتا آخر قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس زبان کے قواعد کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے اور یہ بات کہ ہر لفظ کے ہر معنی ہر جملے میں استعمال نہیں ہوتے۔عربی زبان سے ہی خاص نہیں سب زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ لفظ کے خواہ کتنے ہی معنے ہوں جب وہ عبارت میں آجائے تو اس کے وہی معنے کئے جاتے ہیں جو اس فقرے کے مضمون سے یا اس کتاب کی دوسری جگہوں کے مفہوم سے نکلتے ہوں نہ کہ تمام معنے جو اس لفظ کے لغت میں نکلتے ہوں۔اب چونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم اس کا بار بار ذکر فرماتا ہے کہ مشرک خدا کے سوا اوروں کی پوجا کرتے ہیں تو جب وہ یہ فرماتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو ان دوسری آیتوں سے ملا کر اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور جب دوسری عبارتوں سے مل کر کلمہ کے معنی واضح ہو جاتے ہیں تو شک وشبہ کا سوال اُٹھ گیا۔دوسری آیت یعنی أَجَعَلَ الْأَلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا۔(ص:۶) کے بھی وہ معنے نہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ اس نے سارے معبودانِ باطلہ کو مٹا کر ان کی جگہ ایک معبود قرار دیدیا ہے یہاں جعل بمعنی قرار دینا ہے ورنہ اگر لفظی معنی ہی لئے جائیں گے تو یہ ہو گا کہ ان کو کوٹ کوٹ کر ایک بنالیا ہے۔لیکن یہ معنے نہ وہ لیتے ہیں اور نہ ہم اس لئے جعل کے یہی معنے ہونگے کہ بہت سے معبود تھے ان سب کو مٹا کر اس نے ایک قرار دے دیا۔اب رہی تیسری آیت نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔(ق: ۱۷ ) اس کے جو معنی همه اوست والے کرتے ہیں وہ بنتے ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں مقید سے مطلق زیادہ قریب ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس کے زیادہ قریب ہوتا ہے مقید کی اپنی ذات کی نسبت مطلق