ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 135

۱۳۵ شرک کیا چیز ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ غیر مرئی ہے تو اس کا شریک بنانے یا سمجھنے سے کیا مراد ہے؟ یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جو ہمیشہ سے لوگوں کو حیرت و پریشانی میں ڈالتا رہا ہے وہ لوگ جو بڑے زور سے ایک خدا کے قائل ہوتے ہیں بعض دوسرے لوگ ان کی نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ مشرک ہیں اور اگر ہم ان کی حالت پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بعض ایسی باتیں ضرور پائی جاتی ہیں جن کو دل اندر سے برا سمجھتا ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ شرک کا مسئلہ ایسا سیدھا سادہ نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے بلکہ نہایت باریک مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر قو میں جو بظاہر شرک کی مخالف ہیں عملا شرک میں مبتلاء پائی جاتی ہیں اور اس کا سبب یہی ہے کہ وہ شرک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ شرک کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے بلکہ مختلف نقطہ نگاہ سے اس مرض کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔جب تک اسے ایک تعریف کے اندر لانے کی کوشش ہوتی رہے گی اس وقت تک یہ مسئلہ عُقدي لا ينعل رہے گا۔میرے نزدیک اسے سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل تقسیم بہت مفید ہوسکتی ہے۔اول یہ خیال کرنا کہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں جو یکساں طاقتیں رکھتی ہیں اور سب کی سب دنیا کی حاکم اور سردار ہیں، یہ شرک فی الذات ہے۔دوسرے یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مدبر ہستیاں ایک سے زیادہ ہیں جن میں کمالات تقسیم ہیں۔کسی میں کوئی کمال ہے اور کسی میں کوئی۔یہ شرک ہے اور یہ بھی درحقیقت شرک فی الذات ہی ہے۔