ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 9

جہالت اور حماقت ہے اور جبکہ نہایت چھوٹی چھوٹی صداقتوں کے دریافت کے لئے بغیر اس کے کہ اس دریافت سے کسی فائدہ کی پہلے سے کوئی امید ہولوگ کوشش کرتے ہیں تو کیوں استقدر اہم مسئلہ کی دریافت کی طرف توجہ نہ کی جائے جو پیدائش عالم کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔جب لوگوں نے زمین کے گھومنے یا اس کے گول ہونے یا ستاروں کے فاصلوں پر غور کرنا شروع کیا تھا تو ان امور کی دریافت میں سوائے زیادتی علم کے اور کیا فائدہ سوچا تھا۔پس اگر جزئیات کی دریافت کے متعلق بغیر کسی نفع کی امید کے کوشش کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی ہے تو ذات باری کے مسئلہ کے متعلق کیوں غور نہ کیا جائے؟ در حقیقت جولوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق غور ہی کیوں کریں، وہ ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کی ذات کا انکار کرتے ہیں۔ان کی غرض اس علم سے جو فوائد مترتب ہوتے ہیں ان کا معلوم کرنا نہیں ہوتا۔جب خدا کے نہ ماننے والوں کے سامنے مندرجہ بالا امر پیش کیا جاتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ باقی باتیں تو اختیاری ہیں کسی کی مرضی ہو تو زمین کے گھومنے کی تحقیقات کرے اور نہ ہو تو نہ کرے اسے کوئی مجبور نہیں کرتا مگر خدا کو تو جیز امنوایا جاتا ہے اور ہر ایک کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خُدا کے بارے میں تحقیقات کرے۔مگر یہ غلط ہے۔جس طرح ان علوم کی اشاعت ہوتی ہے اسی طرح اس علم کی بھی اشاعت کی جاتی ہے۔جس طرح دوسرے علوم خاص خاص لوگوں نے جنہوں نے اپنی عمریں ان کی دریافت میں صرف کی ہیں دریافت کئے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکشاف بھی خاص خاص لوگوں پر جو اس امر کے اہل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا جلوہ کامل طور پر ان پر ظاہر ہوا ہے۔اور جب ان پر حقیقت ظاہر ہو گئی ہے تو انہوں نے باقی دنیا کو اس صداقت کے تسلیم کرنے کی دعوت