ہستی باری تعالیٰ — Page 10
دی ہے اسی طرح جس طرح ان لوگوں نے جنہوں نے قانونِ قدرت کی باریکیوں کو دریافت کیا اور پھر دوسرے لوگوں کو ان کے ماننے کی دعوت دی۔اس میں کیا شک ہے کہ سب دُنیا اس تحقیق میں مشغول نہیں ہوئی تھی کہ زمین گول ہے یا نہیں مگر جب یہ صداقت ظاہر ہوگئی تو پھر سب سے ہی اس صداقت کو منوایا جاتا ہے۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے وجود کا اس کی محبت میں فنا ہو کر بعض لوگوں نے پتہ لگایا تو اب سب پر فرض ہے کہ وہ اسے مانیں خواہ اس کے ماننے میں ان کو کوئی فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔اگر زمین کی گولائی اور جوار بھاٹے کے اصول کے دریافت ہونے کے بعد دنیا کو اجازت نہیں دی جاتی کہ جو چاہے مانے۔تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی کو کچھ نہ کہو خواہ کوئی توجہ کرے یا نہ کرے۔جن کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم ہوا ہے ان کا حق ہے اور ان پر فرض ہے کہ وہ دوسروں تک اس علم کو پہنچا ئیں اور کسی کا حق نہیں کہ ان کی اس کوشش پر اعتراض کرے یا اس مسئلہ پر غور کرنے کو عبث قرار دے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ خالق کے معلوم کرنے سے حقائق الاشیاء معلوم ہوتے ہیں اور اس طرح خدا کے معلوم ہونے سے دُنیا کے علوم میں بہت کچھ ترقی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود کے نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ہی شرک پیدا ہوا ہے اور شرک سے حقائق اشیاء کے دریافت کرنے کی طرف بے توجہی ہوئی ہے۔اگر ہر اک چیز کی علت خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے ارادہ کو قرار دیا جاتا تو کیوں ان چیزوں کو جو انسان کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں خدا قرار دیکر انسانی تحقیق سے بالا سمجھ لیا جاتا۔