ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 8

رہے۔یہ عقیدہ پہلے پہل روما سے شروع ہوا۔وہاں تین قسم کے خدا مانے جاتے تھے۔ایک عوام کا خدا جسے کبھی عورت کے بھیس میں اور کبھی کسی اور شکل میں ظاہر ہونے والا قرار دیا جاتا تھا۔دوسرا فلسفیوں کا جو بہت لطیف اور وراء الورامی سمجھا جاتا تھا۔تیسرا حکومت کا خدا جس کا مطلب صرف یہ تھا کہ امن قائم رکھنے کے لئے ایک بالا ہستی کو منوانا عوام الناس کو مجرموں سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔اب یورپ بھی اس قسم کے خدا کا قائل ہے۔حالانکہ یہ دہریت ہے اور خدا تعالیٰ کی پاک ذات سے تمسخر۔اس دلیل کی کمزوری خدا کے ماننے کے لئے یہ دلیل کہ اس کے ماننے سے امن قائم ہوتا ہے یورپ کی دلیل ہے مگر یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر فی الواقع خدا نہیں ہے تو پھر کیوں دھوکا دے کر لوگوں سے خدا منوایا جائے۔دھوکا دے کر لوگوں کو گنا ہوں سے باز رکھنا خود ایک گناہ ہے۔اور پھر یہ بھی تو سوال ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہی کوئی نہیں تو پھر گناہ کیا ہے ہے؟ خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کی صورت میں تو گناہ کی تعریف ہی بدلنی پڑے گی۔پس خدا تعالیٰ کے منوانے کی یہ غرض اپنی ذات میں گناہ ہے اور لوگوں کو ذہنی غلامی میں پھنسائے رکھنا ہے اور دہریت پیدا کرنا ہے۔کیونکہ جب ایک چیز کو اس کے اصل مقصود سے پھیر دیا جائے تو اس کی حقیقت پر غور کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی۔اصل جواب اس سوال کا کہ خدا تعالٰی پر کیوں ایمان لایا جائے یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ موجود ہے اس لئے اس پر ایمان لانا چاہیئے اور دوسری صداقتوں کو جو ہم مانتے ہیں تو یہ سوچ کر تو نہیں مانتے کہ ان کے ماننے میں کیا فائدہ ہے بلکہ اس لئے مانتے ہیں کہ وہ سچائیاں ہیں اور سچائیوں کو معلوم ہونے کے بعد نہ ماننا