ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 93

۹۳ افسوس ہے کہ عبد الکریم کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود کو ان کی بیماری کی اطلاع دی گئی چونکہ سلسلہ کی ابتداء تھی اور یہ صاحب بہت دور دراز سے علاقہ حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں سے بغرض تعلیم آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہمدردی پیدا ہوئی اور آپ نے ان کی شفاء کے لئے خاص طور پر دُعا فرمائی اور فرمایا کہ اس قدر دور سے یہ آئے ہیں جی نہیں چاہتا کہ اس طرح ان کی موت ہو۔اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دورہ ہو جانے کے بعد شفاء دیدی۔حالانکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس قسم کے مریض کو کبھی شفاء نہیں ملی۔میرے ایک عزیز ڈاکٹر ہیں انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ ہستی باری پر ایک دوسرے طالب علم سے گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو میں انہوں نے یہی واقعہ بطور شہادت کے پیش کیا۔اس طالب علم نے کہا کہ ایسے مریض بچ سکتے ہیں یہ کوئی عجیب بات نہیں وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی دن کالج میں پروفیسر کا لیکچر سگ گزیدہ کی حالت پر تھا۔جب پروفیسر لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس مرض کا علاج دورہ ہونے سے پہلے کرنا چاہئے اور بہت جلد اس طرف توجہ کرنی چاہئے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بات کو واضح کرانے کے لئے کہا کہ جناب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دورہ پڑ جانے کے بعد بھی مریض اچھا ہو سکتا ہے۔اس پر پروفیسر نے جھڑک کر کہا کہ کبھی نہیں جو کہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔غرض یہ ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا ہے مگر حضرت مسیح موعود کی دُعا سے اللہ تعالیٰ نے میاں عبد الکریم کو شفاء دی اور وہ خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔پس ثابت ہوا کہ اس طبعی قانون کے اوپر ایک ہستی حاکم ہے جس تمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۱٬۴۸۰