ہستی باری تعالیٰ — Page 87
۸۷ میرا سانس پھول گیا اور میں وہاں تک نہ جا سکا دوسرے آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھ آئے۔اس نے آکر بتایا کہ اس غار کا منہ اچھا چوڑا ہے ایک چارپائی کے قریب ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہر اک بات اس کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ آپ اس غار میں ہیں اور وہ لوگ اس قدر جوش سے آپ کی تلاش میں آئے تھے مگر با وجود آپ کی گرفتاری کی دلی خواہش کے اور واقعات کے آپ کے وہاں موجود ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ ذرا جھک کر غار میں دیکھ لیتے۔ان کے سامنے کوئی توپ نہیں تھی جس کا انہیں ڈر ہوسکتا تھا نہ کوئی اور روک اور مشکل تھی۔لیکن ان میں سے کوئی بھی غار کو نہیں دیکھتا اور سارے واپس چلے جاتے ہیں۔آپ کے ان الله معنا کہنے کے بعد ان لوگوں کا اس طرح خائب و خاسر چلے جانا کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک زبر دست طاقت کی حفاظت میں تھے۔ایک مثال حفاظت الہی کی میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں سے بھی پیش کرتا ہوں۔کنورسین صاحب جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کے والد صاحب سے حضرت صاحب کو بڑا تعلق تھا حتی کہ حضرت مسیح موعود کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی تو بعض دفعہ ان سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے ان کو بھی حضرت صاحب سے بڑا اخلاص تھا۔جہلم کے مقدمہ میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تار دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے وکالت کریں۔اس اخلاص کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایام جوانی میں جب وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند اور دوستوں کے سیالکوٹ میں اکٹھے رہتے تھے حضرت مسیح موعود کے کئی نشانات دیکھے تھے۔چنانچہ ان نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک رات آپ