ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 85

۸۵ قبولیت دعا پر اعتراض اور اس کا جواب دُعاؤں کی قبولیت کے متعلق یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ جن باتوں کو دعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے وہ اتفاق ہو جاتی ہیں ہم کہتے ہیں یہ اعتراض معقول ہے۔بعض غیر معمولی واقعات اتفاقا بھی ہو جایا کرتے ہیں لیکن دُعاؤں کی قبولیت کے ساتھ بعض امور متعلق ہیں جن کی موجودگی میں نہیں کہہ سکتے کہ جو نتائج پیدا ہوئے ہیں وہ اتفاقاً ہوئے ہیں اول تو یہ کہ دُعاؤں کے ساتھ ساتھ واقعات میں تبدیلی ہوتی جاتی ہے جسے دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تبدیلی اتفاقی نہیں بلکہ کسی ارادہ کے ماتحت ہو رہی ہے۔دوسرے یہ کہ ایسے امور بھی دعاؤں کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں کہ بغیر دُعا کے اتفاقاً بھی وہ نہیں ہوتے۔تیسرے یہ کہ اس کثرت سے دُعاؤں کے ذریعہ سے غیر معمولی حالات پیدا ہوتے ہیں کہ اس کثرت کی موجودگی میں اتفاق کا لفظ بولا ہی نہیں جاسکتا۔چوتھے یہ کہ دعا کرنے والے کو بسا اوقات قبل از وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہوگئی ہے خواہ بذریعہ الہام خواہ بطور القاء کہ اس قبل از وقت علم کے بعد اس کا نام اتفاق رکھنا بالکل درست نہیں۔غرض قبولیت دعا کے نظارے ایسے طور پر دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اتفاق کا شبہ تک بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔صفت حفیظ خدا کی ہستی کا ثبوت چوتھی مثال میں خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کی پیش کرتا ہوں۔تمام نبیوں نے شہادت دی ہے کہ خدا حفیظ ہے۔اب آؤ دیکھیں کہ کیا کوئی حفیظ ہستی ہے جو قانون قدرت کے