ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 79

جماعت طہر کے معنی کرتی ہے دوسری حیض کے گو بظاہر یہ دونوں معنی مخالف نظر آتے ہیں اور ایک ہی شخص ایک وقت میں دونوں پر عمل نہیں کر سکتا۔مگر شریعت کی کسی نص کے دونوں ہی مخالف نہیں اور نہ ان میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے ایمان واسلام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس اختلاف کے ذریعہ سے شریعت کی باریکیوں پر غور کرنے کی عادت پڑتی ہے۔مختلف علوم جسمانی و روحانی کی جستجو کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ شریعت کے مغز اور اس کے احکام کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور اس کے احکام میں سے جو قشر اور چھلکے کی حقیقت رکھتے ہیں انکی معرفت حاصل ہوتی ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ نے کا نہیں رکھی ہیں کہ جو کوشش کرے ان سے سونا چاندی نکال لے اسی طرح اس نے قرآن کو بنایا ہے اور یہ امر ایک خوبی اور خدائی کلام کی اعلیٰ صفت ہے نہ کہ کوئی نقص۔میں نے دیکھا اور تجربہ سے معلوم کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ جو ایک چھوٹی سی صورت ہے اس کے معنی کبھی ختم نہیں ہوتے۔پس اس سے خدا کے کلام پر اعتراض نہیں پڑتا بلکہ اس کی خوبی ظاہر ہوتی ہے۔ہر شخص اپنی عقل اور اپنی ہمت کے مطابق معنی نکالتا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھا تا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔پس جو اختلاف کہ ذاتی فوائد و اغراض کے ماتحت نہیں کئے جاتے یا جہالت یا قلت تدبر کی وجہ سے نہیں ہوتے وہ اصول میں سے نہیں بلکہ فروعات میں سے ہوتے ہیں اور امت کے لئے فائدہ کا باعث ہیں کیونکہ ان پر لوگوں کو غور وفکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔پھر قرآن کریم کی آیات کے ذومعانی ہونے کی یہ بھی وجہ ہے کہ یہی کتاب ادنی درجہ کے مؤمنوں کے لئے بھی ہے اور اعلیٰ درجہ کے مؤمنوں کے لئے بھی۔معمولی لیاقت کے لوگوں کے لئے بھی اور اعلیٰ روحانی مقامات پر پہنچنے