ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 3

مذہب کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔وہ کہنے لگے ہم تو قومی مذہب کی حمایت کر رہے تھے نہ کہ خدا کو مان کر اس کے مذہب کی حمایت کرتے تھے۔یہ حمایت مذہب کی نہ تھی بلکہ ہندوستانیت کی۔اس زمانہ میں خدا کا انکار حد سے بڑھا ہوا ہے اور یہاں تک دلیری سے انکار کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ گفتگو کے درمیان میں انہیں طالب علموں میں سے ایک نے جو نسلاً ہندو تھا میز پر تنکا پھینک کر کہا ئیں تو اس میز کو اُٹھا کر دکھا سکتا ہوں تمہارا خدا اس تنکے کو اٹھا کر دکھا دے۔اس کی باتوں کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے آتے ہی ایک ٹریکٹ لکھا جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی کے دلائل دیئے۔مگر آج اس سے زیادہ وسیع مضمون بیان کرنے کا ارادہ ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے۔خدا کے انکار کی وجہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا انکار بہت بڑھا ہوا ہے جس کا بڑا سبب تو یہ ہے کہ گناہ کی کثرت کی وجہ سے تعلق باللہ نہیں رہا اور دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ انگریزی دان لوگ یورپ کے فلسفہ سے متاثر ہو کر مذہب سے دُور جا پڑے ہیں اور دوسرے لوگوں نے ان کے اثر کو قبول کیا ہے۔یورپ کے فلسفہ کا اور فلسفیوں کے خدا تعالیٰ سے اس قدر دور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ جب یورپ میں علمی ترقی ہونے لگی اور طبعی اکتشافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پادریوں کو یہ بیوقوفی سو بھی کہ انہوں نے اس ترقی کو مذہب کے خلاف سمجھا اور اس کی مخالفت شروع کر دی۔جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ مسیحیت کی بنیاد ایسے اُصول پر ہے جن کو عقل رڈ کرتی ہے۔اگر لوگوں کی توجہ عقل کی طرف ہوگئی تو اس کو کون مانے گا۔پس انہوں نے تصرف کو قائم رکھنے کے لئے جو اُن