ہستی باری تعالیٰ — Page 68
۶۸ تکلیفوں کے وقت ہماری حفاظت کرتی ہے۔عام قانون کے ذریعہ سے بھی اور خاص اسباب پیدا کر کے بھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا ہے۔مخالفین تو ہم سے خدا کی ہستی کی ایک دلیل پوچھتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اس کی صفات کی جلوہ گری پر غور کر کے دیکھو تو اس کی ہستی کے لاکھوں ہزاروں ثبوت موجود ہیں۔صفات الہی دہر یہ کہتے ہیں کہ جس طرح خدا موہوم ہے اس کی صفات بھی موہوم ہیں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ کوئی علیم ہستی موجود ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ کوئی سمیع ہستی موجود ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ ہستی لوگوں سے کلام کرتی ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ قدیر ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں دو قسم کے امور پیش کئے جا سکتے ہیں۔ایک تو وہ جو ساری دنیا کو نظر آتے ہیں اور ایک خاص دلائل ہیں جو ہر انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً عفو کی صفت ہے اس کا اثر وہی انسان محسوس کر سکتا ہے جس پر اس کا ظہور ہو اور بخشنے کی حالت کو وہ خود ہی محسوس کرے گا۔مثلا تم کوئی گناہ کرتے ہو خدا چونکہ ستا ر ہے اس کے نتیجہ اور سزا سے تمہیں بچا لیتا ہے اور اس کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ جنہیں انسانی عقل نہیں پیدا کر سکتی۔اس لئے معلوم ہوا کہ خدا ہے۔ایسے امور انسان کے نفس کے اندر ہی پیدا ہو سکتے ہیں اور ان کو وہی سمجھ سکتا ہے۔ہاں دوسری قسم کے امور کو سب لوگ مشاہدہ کر سکتے ہیں اور میں انہیں کو لیتا ہوں کیونکہ جو بات اپنے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق ذکر مفید نہیں ہو سکتا۔اسے تو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے وہ تعلق رکھے۔