ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 65

۶۵ اس اعتراض کی بجائے اور بات سوچنے لگے۔کیسی سچی بات تھی جو اس شخص نے پیش کی اگر پہلے کبھی رسول کریم کی طرف انہوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا۔لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپ کو صادق کہتے رہے تھے تو پھر یکدم جھوٹ کے الزام کو کون سچا مان سکتا تھا۔اسی طرح ہر قل نے جب ابوسفیان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا اور کہا کہ آج تک کا لفظ میں نے اس لئے لگایا تا کہ شبہ پڑ سکے کہ شاید آئندہ بولے۔اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا اور جب وہ جمع ہو گئے تو فرمایا کیا اگر میں تمہیں کہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو مان لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں مان لیں گے حالانکہ مکہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہو سکتی تھی۔پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر ناممکن الوقوع ہو آپ کے منہ سے سن کر ماننے کے لئے تیار ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ کی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یہ ناممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکا دے سکیں۔اس طبقہ اور اس درجہ کے لوگ ہیں جو اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے خدا سے الہام پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے۔یہ لوگ دنیا کے سب سے بڑے مصلح گزرے ہیں اور اپنے اخلاق کی خوبی اور مضبوطی کی وجہ سے انہوں نے لاکھوں آدمیوں کے دلوں پر اس طرح قبضہ کیا ہے کہ وہ لوگ اپنی جانیں اور اپنے مال ان کی راہ میں قربان کرنے کو بہترین نعمت خیال کرتے بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بله الوحى إلى رسول الله بخارى كتاب التفسير سورة اللهب آيت تبت يدا أبي لَهَبٍ