ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 56

۵۶ رنگ اختیار کر لئے جیسے کہ ان کے گردو پیش کے رنگ تھے یا جن رنگوں کی مدد سے وہ اپنے دشمنوں سے بچ سکتے تھے۔غرض یہ مناسبت ضرورت سے پیدا ہوئی ہے اور مجبوری کا نتیجہ ہے نہ کہ پہلے سے فیصل شدہ قانون کا۔اس کا جواب یہ ہے کہ آخر یہ بھی تو سوال ہے کہ یہ قانون کس نے پیدا کیا ہے کہ جو چیز جس رنگ میں زندہ رہ سکے اس قسم کے تغیر اپنے اندر پیدا کر سکتی ہے۔یہ قانون بھی تو کسی بالا رادہ ہستی پر ہی دلالت کرتا ہے اندھی نیچر آپ ہی آپ اس قسم کا پیچیدہ قانون کس طرح تیار کر سکتی تھی ؟ چھٹی دلیل۔دلیل اخلاقی اب میں چھٹی دلیل بیان کرتا ہوں۔اسے دلیل اخلاقی کہنا چاہئے جس سے یہ مراد ہے کہ انسان کی اخلاقی طاقتیں بھی ایک خدا پر دلالت کرتی ہیں۔انسان فطرتا نیکی کا خواہش مند اور اس کی طرف مائل ہے اور چاہتا ہے کہ اچھی باتیں اس میں پائی جائیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس دلیل کو اس طرح پیش فرمایا ہے لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوْامَةِ (القيامة : ۳) تمہارے یہ خیالات کہ کوئی محاسبہ کرنے والی ہستی موجود نہیں ہے، بالکل باطل ہیں۔ہم اس کے ثبوت میں جزاء وسزا کے وقت کو اور خود انسان کے نفس لوامہ کو پیش کرتے ہیں۔یعنی انسان کے اندر کی اس مخفی طاقت کو جو ہر برے فعل پر اندر سے ملامت کرتی ہے اور جب تک وہ بار بار گناہ کا مرتکب ہو کر اس کو مار نہیں دیتا وہ برابر ملامت کرتی رہتی ہے۔بلکہ جب وہ بظاہر مری ہوئی ہوتی ہے تب بھی کبھی اس میں حرکت ہو جاتی ہے اور وہ انسان کو نیکی کی طرف کھینچتی ہے۔اگر خدا نہیں ہے تو انسان کے اندر بدیوں سے رکنے کا احساس کیوں ہے۔پھر تو انسان جو چاہے کرتا