ہستی باری تعالیٰ — Page 49
۴۹ دنیا کے بننے کا طریق نہ معلوم ہونے پر خدا کے ماننے کا فائدہ یہاں پہنچ کر منکرین اور پہلو بدلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا چلو مان لیا کہ خدا ہے۔مگر یہ بات کہ دنیا کس طرح بنی یہ توصل نہ ہوا۔پھر خدا کے ماننے کا کیا فائدہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ا۔یہ اعتراض پیدا ہی ایک غلط خیال سے ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تلاش اس لئے کی جاتی کہ تا معلوم ہو کہ دُنیا کیونکر پیدا ہوئی۔حالانکہ یہ درست نہیں۔۲۔اگر یہ درست بھی ہو کہ خدا تعالیٰ کے وجود کی تلاش صرف اس وجہ سے تھی کہ تا دُنیا کی پیدائش کی حقیقت معلوم ہو جائے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ سوال حل نہ ہو ا تو نہ سہی ، ایک نئی حقیقت تو دنیا کو معلوم ہو گئی اور علم کی ترقی بہر حال مفید ہوتی ہے۔اگر ایک سوال کے حل کرنے میں ہمیں ایک اور حقیقت معلوم ہو جائے تو کیا ہم اس حقیقت کو اس لئے ترک کر دیں گے کہ جس سوال کو ہم حل کر رہے تھے وہ حل نہیں ہوا۔۳۔جواب یہ ہے کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ دنیا آپ ہی آپ آئی ہے۔اس میں بھی تو یہ سوال حل نہ ہوا۔اگر اب بھی نہ ہو تو کیا حرج ہے۔۴۔چوتھا جواب یہ ہے کہ انسان کو اسی علم کی ضرورت نہیں ہوتی کہ فلاں کام کس طرح ہوا بلکہ اس علم کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں کام کس نے کیا۔پیشوں کے متعلق ہی دیکھ لو اگر ایک شخص خوبصورت چھڑی دیکھتا ہے تو وہ یہی سوال