ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 45

۴۵ (1) پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ہستی غنی ہے۔اگر غنی نہ مانیں گے تو اس کے سوا اور وجود ماننے پڑیں گے اور اگر ہم غنی مانیں گے تو پھر اسے اندرونی تغیرات سے بھی محفوظ ماننا پڑیگا اور اگر اسے تغیرات سے محفوظ مانا جائے گا تو یہ بھی ماننا پڑیگا کہ وہ دنیا کی علت العلل بھی نہیں ہے اور اس صورت میں اسے وجود کے تصور کی بھی کوئی حاجت نہ رہے گی۔پس یہ خیال بھی غلط ہوا۔لیکن چونکہ تینوں صورتیں جو دنیا کی پیدائش کے متعلق ممکن تھیں ناممکن ثابت ہو ئیں تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان ذہن میں نہ آنے والی صورتوں میں سے ایک نہ ایک درست ہے۔اور چونکہ جو اعتراض سب صورتوں میں پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپ ہی آپ کس طرح ہو گئیں۔اس لئے باوجود اس اعتراض کے ایک نہ ایک صورت کو صحیح تسلیم کرنا ہوگا اور یہ مانا ہو گا کہ گو یہ اعتراض پڑتا ہے مگر دنیا موجود ہے اور اس کے وجود میں کچھ شک نہیں اس لئے باوجود اس اعتراض کے دنیا کی پیدائش مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے ہوئی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچ کر ہر ایک شخص کو یقین کرنا پڑے گا کہ وہ صورت اول ہی ہو سکتی ہے۔یعنی یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آتی ہے کیونکہ دوسری اور تیسری صورت میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی علت آپ ہی آپ کیونکر ہوگئی۔پس جب آگے چل کر پھر اس سوال سے واسطہ پڑنا ہے تو کیوں نہ تسلیم کرلیں کہ دنیا ہی خود بخود پیدا ہوگئی ہے۔پیدائش دنیا پر لوگوں کے خیالات پر بحث سب سے پہلے ان معترضین کے اس خیال کو میں رد کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کا خیال اسی سبب سے پیدا ہوا کہ دُنیا کا خالق دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔خدا تعالیٰ کا وجود جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں الہام سے پیدا ہوا۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک