ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 43

سم سوم آپ چلی آرہی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ غیر محدود زمانہ کو ماننا پڑے گا اور یہ انسانی عقل کے لئے محال ہے کیونکہ غیر محدود محدود میں نہیں سما سکتا۔دوسرا خیال کہ دنیا نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یہ بھی انسانی دماغ میں نہیں آسکتا۔کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کسی مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت ممکن الوجود نے وجود کا جامہ پہن لیا اور اس بات کا تسلیم کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس صورت میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کوئی چیز طاقت خلق بالقوۃ رکھتی تھی پھر وہ بالفعل ظاہر ہوگئی اور اگر اس بات کو مانا جائے تو دوسوال پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلا سوال یہ کہ جو چیز اپنے اندر ظہور کی طاقت رکھتی تھی ، اگر وہ کوئی چیز تھی تو دنیا کی پیدائش کی حقیقت پھر بھی حل نہ ہوئی کیونکہ یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ وہ چیز کس طرح پیدا ہوئی؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت اس نے آپ کو ظاہر کر دیا ، وہ ضرورت یا خواہش کس نے پیدا کی۔اگر اس کا کوئی اور خالق تھا تو اسے کس نے پیدا کیا تھا اور اگر نہیں تھا تو وہ پیدا کیونکر ہوگئی۔اگر کہو کہ آپ ہی آپ۔تو پھر دُنیا کے متعلق ہی کیوں نہ مان لیا جائے کہ وہ آپ ہی آپ پیدا ہوگئی ہے۔اگر کہیں کہ پہلی حالت عدم کی تھی نہ کہ وجود کی اس لئے اس کے پیدا کرنے سے سلسلہ سوالات نہیں چلتا تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ اگر ظہور کی مخفی طاقت عدم میں تھی تو ماننا پڑے گا کہ عدم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ عدم جس میں ظاہر ہونے کی قابلیت ہوتی ہے اور ایک وہ جس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی۔لیکن انسانی ذہن اس امر کو تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ اگر جو چیز محض عدم ہو اس میں کوئی طاقت خواہ مخفی ہو خواہ ظاہری رہ نہیں سکتی۔تیسرا خیال یہ ہے کہ دنیا کو کسی اور وجود نے پیدا کیا ہے اور یہی خیال مذہبی