ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 35

۳۵ گئی۔سب چیزیں بھی تدریجا پیدا ہو ئیں اور ہر ایک چیز بھی آہستہ آہستہ ہی کامل ہوئی۔پس یہ ٹھیک ہے کہ دُنیا میں زندگی کی مختلف روئیں چلی ہیں۔پہلے چھوٹی پھر اس سے بڑی پھر اس سے بڑی۔مگر یہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل روئیں تھیں۔یہ نہیں تھا کہ ایک ہی روترقی کرتے کرتے مختلف شکلیں اختیار کر گئی۔غرض پہلے نہایت ادنی قسم کی مخلوق بنی پھر اس سے اعلی بنی پھر اس سے اعلیٰ۔مگر یہ ترقی الگ الگ ہوئی اور مستقل طور پر۔اور یہ غلط ہے کہ ایک ہی ادنی حیوان سے ترقی کرتے کرتے تمام مخلوق بن گئی۔بات یہ ہے کہ جب زمین اس قابل تھی کہ چھوٹے چھوٹے جاندار اس میں زندہ رہ سکیں اس وقت اس قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے۔جب زیادہ صفائی اس کی فضا میں پیدا ہوگئی تو زیادہ اعلیٰ قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے یہاں تک کہ فضا بالکل صاف ہوگئی اور اس میں انسان جو سب سے اعلی جاندار تھا پیدا ہوا اور بالکل قرین قیاس ہے کہ انسان کی پیدائش کے بعد جس قسم کے جانداران سڑاندوں سے پیدا ہو سکتے تھے جو انسان ہی کی پیدائش کے بعد پیدا ہو سکتی تھیں انسان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے۔غرض آدمی بے شک ارتقاء کے اُصول کے ماتحت ہی پیدا ہوا ہے۔مگر ہر جنس کا ارتقاء مستقل تھا نہ کہ ایک چیز دوسری سے پیدا ہوئی۔لیکن یہ نہیں کہ بندر سے انسان بنے بلکہ یہ کہ انسان انسان سے ہی بنے اور بندر بندر سے اور کتے سکتے سے۔مگر ہم کہتے ہیں خواہ کچھ مان لو اس ارتقاء کا مسئلہ سے دہریت باطل ہو جاتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ جو لوگ ادنیٰ جانوروں سے ترقی کر کے انسان کی پیدائش مانتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کچھ حیوانات پیدا ہوئے پھر انہوں نے ترقی کی اور اؤر پیدا ہوئے اور اس ترقی کے ساتھ ساتھ دماغ کی بھی ترقی ہوتی گئی حتی کہ اعلیٰ درجہ کا انسان پیدا ہو گیا۔اس پر آکر جسمانی ترقی تو بند ہو گئی لیکن انسانی دماغ کی ترقی جاری ہے۔ہم