ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 26

۲۶ کے پھول کی خوشبو مجھے دکھا دو یا لوہے کی سختی مجھے دکھا دو یا خوبصورت آواز دکھا دو۔تو وہ شخص نہایت ہی نادان ہوگا اور جب مادی چیزوں میں سے بھی سب کی سب دیکھنے سے نہیں مانی جاتیں۔تو پھر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا کہ ہم اسے دیکھے بغیر نہیں مانیں گے کس قدر نادانی ہے۔علاوہ ازیں سب چیزیں حواسِ خمسہ سے بھی نہیں معلوم کی جا سکتیں۔بعض قیاس سے بھی معلوم کی جاتی ہیں۔ایسی چیز میں نہ سونگھی جاتی ہیں نہ چکھی جاتی ہیں نہ دیکھی جاتی ہیں نہ ٹولی جاتی ہیں نہ سنی جاتی ہیں۔جیسے غصہ ہے۔کس طرح پتہ لگتا ہے کہ فلاں میں غصہ ہے؟ کیا چھو کر پائن کر یا چکھ کر یا دیکھ کر یا سونگھ کر۔ان پانچوں طریقوں میں سے کسی سے بھی اس کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا۔پھر کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ غصہ کوئی چیز ہے اور لوگوں کو آیا کرتا ہے۔اس طرح کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں بھی آدمی ہوں اور دوسرے بھی آدمی ہیں پس وہ اپنے غصہ کی حالت کی کیفیات کو جب دوسروں کی ویسی ہی کیفیات سے ملا کر دیکھتا ہے تو سمجھ لیتا ہے کہ یہ چیز اوروں میں بھی پائی جاتی ہے اور جس وقت وہ کیفیات دوسرے میں دیکھتا ہے خیال کر لیتا ہے کہ اس وقت اس کو غصہ آیا ہوا ہے۔اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جو دوسرے کی کیفیت کو اپنے اوپر چسپاں کرنے سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلا درد ہے۔نہ یہ چکھی جاتی ہے نہ سونگھی جاتی ہے نہ دیکھی جاتی ہے نہ چھوٹی جاتی ہے نہ سنی جاتی ہے۔پھر کس طرح پتہ لگایا جاتا ہے کہ کسی شخص کو واقع میں درد ہے اور کس طرح ہے اس طرح کہ اپنے نفس پر وہ حالت گزری ہوئی ہوتی ہے اور اس کے آثار کا علم ہوتا ہے اس لئے جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے فلاں جگہ درد ہے تو دوسرے انسان اس کی شکل اور حالت کو دیکھ کر درد کا حال معلوم کر لیتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بناء پر جو تکلیف اسے ہورہی ہوتی ہے اس کا اندازہ کر لیتے ہیں۔