ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 281

۲۸۱ ہے۔جب وہ مرجاتا ہے تو جن کو اس نے سکھایا ہوتا ہے وہ دوسروں کو سکھاتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسی نسل کا باپ نہیں ہوتا جس کو سکھاتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کا بھی باپ ہوتا ہے۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی ہمارے باپ ہیں جس طرح کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے باپ تھے۔اس مقام کا انسان اپنی ہمدردی کو کسی مذہب کے آدمیوں سے محدود نہیں کرتا بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کا ہمدرد ہوتا ہے اور سب کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے۔رب العالمین کا کامل مظہر یہ وہ مقام ہے جس کے کامل اور اکمل مظہر محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔وجہ یہ ہے کہ رب العالمین کا کامل مظہر وہی ہوسکتا ہے جو پہلوں کی بھی تربیت کرے اور پچھلوں کی بھی اور یہ مقام سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو حاصل نہیں۔آپ ہی ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب آدم ابھی مٹی میں تھا اس وقت میں خاتم النبیین تھا یا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس لئے پہلوں کی تربیت کرنے والے نہیں کہ آپ نے براہ راست ان کو سکھا یا بلکہ اس لئے کہ پہلے نبی اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نقطہ تک لے جائیں۔پس رسول کریم ہی کامل طور پر رب العالمین کی صفت کے مظہر تھے اور یہی وہ درجہ ہے جس کا پانے والا الحمد کا مستحق ہوتا ہے اور اسی لئے رسول کریم کا نام محمد رکھا گیا کہ سب تعریفیں آپ میں جمع ہو گئیں اور یہ ناممکن تھا کہ بغیر محمد نام کے خاتم النبیین نبی ہوتا پس آپ کا نام بھی آپ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۲۸،۱۲۷