ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 277

۲۷۷ رہے وہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔صرف اسی شخص کے حق میں کہ جو خو د رحیم بنتا ہے خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت جوش میں آتی ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے میں بھی اسے بڑھ کر دوں اور ایسے شخص کو اعلیٰ مقام مل جاتا ہے لیکن جس کے اندر رحیمیت نہیں ہوتی وہ سارا سال نمازیں پڑھتار ہے تو بھی اسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔مثلاً ایک روحانی مقام اگر پچاس سال کی نمازوں کے بعد ملتا ہو تو جو اپنے نفس میں رحیمیت پیدا نہیں کرتا وہ تو اگر ایک سال نمازیں پڑھے گا تو اس کا ایک ہی سال گزرے گا اور انچاس باقی رہیں گے لیکن وہ جس میں رحیمیت کی صفت ہوگی ایک سال نمازیں پڑھ کے پچاس سال کا ثواب حاصل کرے گا کیونکہ اس کے نفس کی رحیمیت خدا کی رحیمیت کو کھینچے گی اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت کا تقاضا ہے کہ بندہ کے تھوڑے کام پر زیادہ بدلہ اور بار بار بدلہ دے۔پس اس صفت کے ذریعہ سے انسان تھوڑے عرصہ میں بڑے بڑے در جے حاصل کر لیتا ہے۔بندہ کا درجہ رحمانیت پانا جب خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت انسان کی صفت رحیمیت سے ملتی ہے تو اس میں اور نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ گویا پھر ایک رُوحانی جنم لیتا ہے اور رحمانیت کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔رحمانیت کے معنی ہیں کہ کسی نے کچھ کام نہ بھی کیا ہو تو بھی اس سے نیک سلوک کرنا۔جیسے خدا تعالیٰ نے سورج ، چاند، زمین، آسمان، ہوا، پانی پیدا کئے ہیں یہ انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں ہیں بلکہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔بندہ کا تیسر ا مقام اسی صفت کا حصول ہے اور وہ اس طرح کہ یہ پہلے تو صرف ان لوگوں سے