ہستی باری تعالیٰ — Page 273
۲۷۳ بندہ کا درجہ رحیمیت پانا صفت مالکیت بیج کی طرح ہے اس سے اوپر رحیمیت کا درجہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کام سے بڑھ کر بدلا دینا۔پہلے وہ سات باتیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں جو او پر بیان کی گئی ہیں اور یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ان کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے نہ ان سے باہر جائیں گے نہ ان کو چھوڑیں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا سالک کے گناہ مٹاتا جائے گا اور اگر کوئی غلطی ہوگی تو اسے نظر انداز کر دے گا اور اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ اس کے دل میں بدی سے نفرت پیدا ہو جائے گی۔اس کے بعد رحیمیت کی مشابہت میں یہ عادت پیدا کرنی چاہئے کہ ہر کام کرنے والے کو اس کے حق سے زیادہ دیا جائے۔مثلاً ایک شخص کسی کا نوکر ہو وہ یہ فیصلہ کرے کہ میرا مالک جو تنخواہ مجھے دیتا ہے اور اس کے بدلے جتنے کام کی اُمید مجھ سے رکھتا ہے اس سے زیادہ کام میں کروں گا اور مالک یہ فیصلہ کرے کہ اس کام کی جتنی تنخواہ مقرر ہوئی ہے میں اس سے زیادہ سلوک ملازم سے کروں گا۔اگر آقا اور نوکر دونوں ایسے ہوں کہ اس اصل پر چلیں تو یہ بھی ایک قسم کا مقابلہ ہوگا مگر کیسا عجیب مقابلہ ہو گا جو صلح اور امن پیدا کر دے گا۔صحابہ میں اس قسم کے واقعات ہوتے تھے۔ایک دفعہ ایک صحابی اپنا گھوڑا بیچنے کے لئے آئے اور ایک دوسرے صحابی اسے خرید نے لگے۔گھوڑے کے مالک نے مثلاً دو ہزار درہم قیمت بتائی اور لینے والے نے تین ہزار درہم۔بیچنے والا اس پر مُصر تھا کہ میں دو ہزار سے زیادہ نہ لوں گا کیونکہ میرا گھوڑا اس سے زیادہ قیمت کا نہیں ہے لیکن گھوڑ ا خریدنے والا کہتا تھا کہ میں تین ہزار سے کم نہ