ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 272

۲۷۲ ایسی ہیں کہ پہلے انسان آہستہ چلتا ہے اور پھر تیز کیونکہ اسے ہر قدم پر نئی طاقت ملتی جاتی ہے۔صفت مالکیت پیدا کرنے کا فائدہ اگر لوگ ملک یوم الدین کی صفت کو اپنے اندر پیدا کر لیں تو پھر سارے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔لوگوں میں لڑائی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ نجی کی طاقتوں کو غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کریں تو کبھی لڑائی نہ ہو۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر زیادہ اللہ ہوں تو فساد ہو جائے اور ادھر فرماتا ہے کہ بحر و بر میں فساد پیدا ہو گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت زیادہ الہ بن گئے تھے یعنی لوگ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے ماتحت اپنی قضاء کو کرنے کی بجائے اس صفت کو مستقل طور پر استعمال کرنے لگ گئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی اور فساد پیدا ہو گیا۔اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ فساد ہمیشہ خدا تعالیٰ کی صفات سے علیحدگی اور مستقل پالیسی اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح نے کہا ہے جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ دوسرے کے لئے بھی پسند نہ کرو۔اگر کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کا مال چھائے تو اس کو بھی چاہئے کہ کسی کا نہ چھائے۔اسلام نے بھی ایسی باتیں کہی ہیں مگر ادنی درجہ کے لوگوں کے لئے اور اعلیٰ لوگوں کے لئے یہ کہا ہے کہ یہ نہ دیکھو دوسرا کیا کرتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ خدا کیا کرتا ہے جو کچھ خدا کرتا ہے وہی تم کرو خدا چونکہ غلطی نہیں کرتا اس لئے انسان جب اس کی اتباع کرے گا تو وہ بھی غلطی سے بچ جائے گا۔