ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 271

۲۷۱ ہو جائے گی اور اسے خدا تعالیٰ سے ایک مشابہت حاصل ہو جائے گی۔جب بندہ یہ استعداد پیدا کر لیتا ہے تو وہ مادہ کی طرح ہو جاتا ہے گویا اس میں ترقی کرنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس وقت خدا تعالیٰ کی صفت ملک یوم الدین جو اس درجہ کے آدمی کے لئے منبع فیض ہے اس پر اپنا پر تو ڈالتی ہے اور اس کی روح میں نئی طاقتیں پیدا کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے جو یہ لکھا ہے کہ میں پہلے مریم بنا اور پھر عیسی بنا اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے اندر پہلے خدا تعالیٰ کی صفات کا اثر قبول کرنے کی قابلیت پیدا ہوئی بعد میں خدا تعالیٰ کے بالمقابل صفت کے اتصال سے نئی قوتیں حاصل ہوئیں جو عیسوی قوتوں سے مشابہ تھیں یا اس حالت کی مثال تیار شدہ زمین کی سمجھ لو۔جب سالک کی حالت اس طرح کی ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کی ملک یوم الدین والی صفت اس پر اثر ڈالتی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح مرد عورت ملتے ہیں یا زمین اور بیچ ملتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی صفات ایسی نہیں کہ وہ کسی پر پر تو ڈالیں اور نتیجہ نہ نکلے اس لئے جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو انسان کے اندر ضرور ہی نئی طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ جو میں نے بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت اس پر جلوہ کرتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح یہ لوگوں سے عفو کا معاملہ کرتا تھا خدا تعالیٰ بھی اس سے عفو کا معاملہ کرتا ہے اور چونکہ گناہ ہی ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار کو سست کرتی رہتی ہے جب یہ زنجیر کھل جاتی ہے تو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔دنیا وی سفر میں تو یہ ہوتا ہے کہ پہلے لوگ تیز چلتے ہیں اور پھر جوں جوں تھکتے جاتے ہیں آہستہ چلنے لگتے ہیں مگر خدا کی منزلیں