ہستی باری تعالیٰ — Page 245
۲۴۵ ہے۔ابھی تو ہر بیماری کا علاج نہیں نکلا حالانکہ ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔آپ کے مقابلہ پر دوسرے مدعیان علم کی حالت بالکل اس مینڈک کی حالت کی طرح معلوم ہوتی ہے جو کنویں کو ہی بہت بڑا سمجھتا ہے اور آپ کی حالت یوں معلوم ہوتی ہے کہ گویا سمندر بھی آنکھوں میں نہیں بچتا۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک امریکن انگلستان میں آیا اور وہ ایک گاڑی پر بیٹھا۔گاڑی والے نے اس سے پوچھا کیا امریکہ میں دریا ہوتے ہیں۔وہ کہنے لگا ہاں ہوتے ہیں۔گاڑی بان نے کہا بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں؟ اس نے کہا بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں۔امریکن نے تو امریکہ کا وہ دریا دیکھا ہوا تھا جو ساری دنیا کے دریاؤں سے بڑا ہے اور گاڑی بان نے صرف اپنے ملک کا دریا ٹیمز دیکھا ہوا تھا جو بڑی نہروں کے برابر ہے ) گاڑی بان نے ٹیمز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ کیا اتنا بڑا دریا بھی امریکہ میں کوئی ہے؟ امریکن نے جوابا دریافت کیا کہ تم دریا کے متعلق پوچھتے ہو یہ تو ایک نہر ہے اسے دریا کون کہہ سکتا ہے۔اس پر گاڑی بان کو اس قدر اشتعال آیا کہ مسافر کو کہنے لگا کہ تو بالکل جھوٹا انسان ہے اب میں تجھ سے بات ہی نہیں کروں گا۔اہل یورپ ایک محدود دائرہ میں یہی حالت ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں صفات الہیہ نے گھر نہیں کیا ان کا دائرہ علم بہت محدود ہوتا ہے۔یورپ والے علم علم کہتے ہیں لیکن وہ بھی کیسے محدود دائرہ میں گھرے ہوئے ہیں ذرا کوئی نئی بات نکال لیتے ہیں تو شور مچادیتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نہیں۔گویا کہ اگر دنیا ایک جاہلانہ اصول پر چلتی ہے تو خدا ہے اور اگر اس کے کام میں