ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 239

۲۳۹ هستی باری تعالیٰ سورج کی روشنی دنیا میں آٹھ منٹ کے قریب میں پہنچتی ہے اور چونکہ زمین چکر کھا رہی ہے اس لئے جس وقت سورج کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے اس وقت تک سورج اس جگہ سے آٹھ منٹ کا سفر آگے کی طرف طے کر چکا ہوتا ہے اور ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ سورج نہیں بلکہ اس کی آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں ہوتی ہیں اور جس جگہ سورج کو دیکھتے ہیں درحقیقت وہ وہاں بھی نہیں بلکہ اس سے قریبا سوا سو میل آگے ہوتا ہے کیونکہ اس عرصہ میں زمین سوا سو میل کے قریب چکر کھا چکی ہوتی ہے۔اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوب رہا ہے تو اس سے سات منٹ پہلے سورج ڈوب چکا ہوتا ہے ہم اس عرصہ میں اس کی آٹھ منٹ پہلے کی شعاعیں دیکھتے رہتے ہیں جسے وہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ہم انہیں سورج سمجھتے ہیں۔پس کبھی حقیقی سورج کسی نے نہیں دیکھا اس کی شعاعیں آتی ہیں جو ایک مکی بناتی ہیں اور اتنے عرصہ میں سورج آگے نکل چکا ہوتا ہے۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ حقیقی سورج کبھی کسی نے نہیں دیکھا اس لئے رؤیت کا کوئی فائدہ نہیں۔باوجود اس کے کہ سورج ڈوب چکا ہوتا ہے مگر اس کی پیچھے چھوڑی ہوئی شعاعیں ہمیں روشنی دیتی ہیں اور ہم ان سے وہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سورج سے۔اسی طرح گو خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا کیونکہ اس کی ذات غیر محدود ہے مگر ہم اس کی صفات کے تمثلات کو دیکھ کر ویسا ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں جو کسی ذات کے دیکھنے سے ہوا کرتا ہے سوائے شکل کی حد بندی کے اور خدا تعالیٰ شکل سے پاک ہے اس لئے اس کا کوئی نقصان نہیں۔جب ہم ایسی محدود ذاتوں کا نظارہ بھی جو کہ بڑی ہوتی ہیں تمثیلی طور پر ہی کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی غیر محدود ذات کا نظارہ حقیقی طور سے کس طرح کر سکتے ہیں؟ چنانچہ سورج کو دیکھو وہ